بیجنگ: چین کے ماہرین کا تیار کردہ روبوٹ اب شاپنگ مال اور ویئر ہاؤس میں سامان اٹھانے کا کام تن دہی سے انجام دے رہا ہے۔


تفصیلات کے مطابق چین کے صوبے ہویانگ میں واقع ’علی بابا‘ شاپنگ مال کی انتظامیہ نے سب سے پہلے چینی کمپنی کے تیار کردہ روبوٹوں کو اپنے ادارے میں ملازمت دی۔

علی بابا کے ویئر ہاؤس میں اس سے قبل تقریبا 80 ملازمین سامان اٹھانے کا کام کرتے تھے مگر جولائی کے بعد سے مالکان کو کسی کی ضرورت نہیں رہی اور انہوں نے ماسوائے کمپیوٹر آپریٹر کے سب کی چھٹی کردی۔

ڈاکٹرز کی چھٹی، اب روبوٹ آپریشن کریں گے

ویئر ہاؤس اور شاپنگ مال میں قالین صاف کرنے والی مشین کی طرح چھوٹے چھوٹے 60 کے قریب روبوٹ گھوم رہے ہیں جو 500 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ روبوٹ وائی فائی کے ذریعے ہدایت سنتے ہیں جبکہ ماہرین نے ان میں ایسا لیزر سسٹم نصب کیا جس کی بدولت یہ ایک دوسرے سے ٹکراتے نہیں بلکہ رک جاتے ہیں۔

لیزر روبوٹ کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ 360 ڈگرے زاویے پر گھوم کر ہدایت کے مطابق مذکورہ راستے پر چلتے ہوئے سامان کاؤنٹر تک پہنچاتے ہیں۔

 دنیا کا پہلا روبوٹ اینکر متعارف

علی بابا کے مالک کا کہنا ہے کہ انہیں روبوٹ خریدنے کے بعد 70 فیصد ملازمین کی ضرورت نہیں رہی اور تنخواہوں کی مد میں بڑے اخراجات بچت ہوئی، علاوہ ازیں سروس کوالٹی بھی بہتر ہوئی جو پہلے نہیں تھی۔

ٹیکنالوجی کمپنی کائن ایاؤ نامی کی جانب سے تیار کردہ روبوٹ بیٹری اور چارچنگ سے چلتے ہیں، صرف پانچ منٹ چارج کر کے ان سے پانچ گھنٹے تک کام لیا جاسکتا ہے۔

کمپنی ترجمان کے مطابق روبوٹ 3 ہزار میٹر ایریا میں سروس فراہم کرسکتے ہیں، ان کی رفتار 1.5 میٹر فی سیکنڈ ہے۔

 گھر پر چیزیں فراہم کرنے والا روبوٹ

روبوٹ کی کامیاب آزمائش کے بعد کمپنی کا ارادہ ہے کہ ان کو سامان چین کے 100 علاقوں میں سامان کی ترسیل کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔


YOUR REACTION?



Facebook Conversations



Disqus Conversations