امریکی اخبار کے مطابق اس منصوبے میں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ ذاتی طور پر دلچسپی لے رہے ہیں اور فی الحال یہ ابتدائی مراحل میں ہے۔


سوشل میڈیا صارفین کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ فیس بک انتظامیہ نے اپنے میسنجر، انسٹا گرام اور واٹس ایپ کو ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس منصوبے کی تکمیل کے بعد سوشل ایپلی کیشنز فیس بک، انسٹا اورواٹس ایپ تو الگ الگ استعمال کیے جا سکیں گے لیکن ان تینوں کے میسنجرضم کردیے جائیں گے جس سے فیس بک کا صارف اس شخص کو بھی واٹس ایپ یا انسٹاگرام پرپیغام بھیج سکے گا جو فیس بک استعمال نہیں کرتا۔

رپورٹ کے مطابق تینوں سوشل ایپلی کیشنز کی میسجنگ سروسز کے انضمام کے عمل کا آغاز کردیا گیا ہے اور قوی امکان ہے کہ یہ منصوبہ رواں سال کے ٓاخر یا سال 2020 کے آغاز میں مکمل کرلیا جائے گا۔

فیس بک کے مطابق بانی مارک زکر برگ کی خواہش ہے کہ ان تینوں ایپس کو زیادہ سے زیادہ موثربنایا جائے کیوں کہ لوگ میسجز کے عمل کو تیزتر، آسان اور مزید قابل اعتبار دیکھنا چاہتے ہیں۔

جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فیس بک اپنی میسنجنگ پروڈکٹس کو محفوظ اورآسان بنانے کیلئے کام کررہی ہے تاکہ صارفین تینوں نیٹ ورکس پرباآسانی اپنے دوستوں اور عزیز واقارب سے رابطہ کرسکیں۔

YOUR REACTION?



Facebook Conversations



Disqus Conversations