’کسی کا بھی ایک چہرہ نہیں ہوتا‘

ٖ


عید رات آخری بکرا بیچنے کے بعد میں تقریباً فارغ ہو چکا تھا۔ ایک خلش تھی جس نے مجھے مویشیوں کی منڈی سے جانے نہیں دیا تھا۔ میں اس امید پر اپنے شامیانے میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرا بولنے والا بکرا واپس آئے گا اور مجھے اپنی آپ بیتی سنائے گا، اور پھر بولنے والے بکرے کی آپ بیتی میں آپ کو سناؤں گا۔ 

میرا بولنے والا بکرا لحیم شحیم، بھاری بھرکم گاہک سے گھبرا کر بھاگ کھڑا ہوا تھا اور مویشیوں کے جنگل میں غائب ہوگیا تھا۔ میں حیران تھا کہ بولنے والے بکرے کو کیسے پتا چلا کہ بھاری بھرکم گاہک لینڈ گریبر تھا، یعنی املاک اور زمینوں پر قبضہ کرنے والا، اور اس نے آدھا پاکستان ہڑپ کرلیا تھا۔

 آخری بکرا بیچنے کے بعد بولنے والے بکرے کی تلاش میں  نے مویشیوں کی منڈی چھان ماری تھی۔ وہ مجھے کہیں نہیں کھائی دیا تھا۔ چھٹی حس مجھے قائل کر رہی تھی کہ بولنے والا بکرا لوٹ آئے گا اور مجھے اپنی آپ بیتی سنائے گا۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ گگدام بکرا بولنے والا بکرا کیسے بنا تھا۔

عیدالاضحی کے دو روز بعد تک قربانی دی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے عید کے فوراً بعد مویشیوں کی منڈی ویران نہیں ہوتی۔ جانوروں کی قیمت کم کردی جاتی ہے۔ سیانے اور گھاگ گاہک عید کے دوسرے اور تیسرے دن جانور سستے بھاؤ خریدتے ہیں اور قربانی دیتے ہیں۔

 عید کے تیسرے دن شام ہونے سے پہلے منڈی ویران ہونے لگی۔ جانور بیچنے والے ایک دوسرے سے گلے مل کر اگلے برس پھر ملنے کے وعدے کررہے تھے۔ میری آس ٹوٹنے لگی۔ مگر چھٹی حس مجھے یقین دلوارہی تھی کہ میرا بولنے والا بکرا لوٹ آئے گا۔ اگر ہرجائی لوٹ سکتے ہیں، تو پھر میرا بولنے والا بکرا میرے پاس ضرور لوٹ آئے گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ سورج غروب ہورہا تھا، تب میں نے ایک طرف سے بولنے والے بکرے کو آتے ہوئے دیکھا۔ قریب آنے پر اسے دیکھ کر میں چونکا۔ اس کا ایک سینگ ٹوٹا ہوا تھا۔ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے پوچھا۔ ’’تیرا سینگ کیسے ٹوٹا‘‘۔

بکرے نے سر اونچا کرکے اپنا منہ کھولا۔ اس کے دو دانت ٹوٹے ہوئے تھے۔ میں نے حیرت سے پوچھا۔ ’’کسی بھینسے سے تیرا ٹاکرا ہوگیا تھا کیا؟‘‘

انکار میں سر کو جنبش دیتے ہوئے بولنے والے بکرے نے کہا۔ ’’پتھر کو ٹکر مار کر پہلے میں نے اپنا ایک سینگ توڑا اور پھر اسی پتھر سے میں نے اپنے اگلے دو دانت توڑ دیئے‘‘۔

میں نے تعجب سے پوچھا۔ ’’مگر کیوں؟‘‘ بولنے والے بکرے  نے کہا۔ ’’جس جانور میں نَقص ہو، اس جانور کی قربانی جائز نہیں ہوتی‘‘۔

بولنے والا بکرا مجھے بکروں کا دانشور محسوس ہوا۔ بولنے والے بکرے نے کہا۔ ’’مجھے ٹھوک بجا کر دیکھنے کے بعد گاہکوں کی نظر جب میرے ٹوٹے ہوئے سینگ اور ٹوٹے ہوئے دانتوں پر پڑتی تھی تب وہ مجھے خریدنے سے انکار کردیتے تھے‘‘۔

بولنے والے بکرے کو میں نے گھاس کھلائی، پانی پلایا۔ اس کے سر اور پیٹھ پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے پوچھا ’’تمہیں کیسے پتہ چلا کہ موٹا تازہ گاہک لینڈ گریبر تھا اور اس نے آدھا پاکستان ہڑپ کر لیا تھا؟‘‘۔

’’یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے، فضل ہے‘‘۔ بولنے والے بکرے نے کہا۔ ’’میں کسی بھی شخص کو دیکھ کر اس کی تاریخ اور جغرافیہ بتا سکتا ہوں‘‘۔

میں نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔ ’’کیا واقعی تم دیکھتے ہی لوگوں کا اصلی چہرہ دیکھ سکتے ہو؟‘‘

’’جی ہاں‘‘۔ بولنے والے بکرے نے کہا ’’اور خداداد عطیہ کی وجہ سے مجھے جوکھم بھی اٹھانا پڑتے ہیں۔‘‘

’’وہ کس لئے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

بولنے والے بکرے نے کہا۔ ’’تگڑم قسم کے لوگ اپنا گھناؤنا چہرہ دیکھنا پسند نہیں کرتے‘‘۔

میں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ بولنے والا بکرا میری اصلیت جان سکے۔ بولنے والے بکرے نے کہا۔ ’’گھبراؤ مت۔ میں تمہیں تمہارا چہرہ نہیں دکھاؤں گا‘‘۔

کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے میں نے کہا۔ ’’میرا ظاہری اور باطنی چہرہ ایک ہی ہے‘‘۔

’’کسی کا بھی ایک چہرہ نہیں ہوتا‘‘۔ بولنے والے بکرے نے کہا۔ ’’دکھاؤں تمہیں، تمہارا دوسرا چہرہ ؟‘‘

بات ٹالتے ہوئے میں کہا۔ ’’تم مجھے اس پیر سائیں کے بارے میں بتاؤ۔ جس نے غصہ میں آکر تمہیں آدمی سے بکرا بنا دیا ہے‘‘۔

’’غلطی میری تھی۔‘‘ بکرے نے کہا۔ ’’مجھے پیر سائیں کی پریس کانفرنس میں نہیں جانا چاہئے تھا‘‘۔

’’تم نے کیا پیر سائیں سے الٹا سیدھا سوال پوچھ لیا تھا؟میں نے پوچھا۔

’’نہیں‘‘۔ بکرے نے کہا۔ ’’میں نے پیر سائیں کو پہچان لیا تھا۔ پیر سائیں بننے سے پہلے وہ اندرون سندھ دہشت ناک دھاڑیل ہوا کرتا تھا۔ کچھ عرصہ روپوش رہنے کے بعد پیر سائیں کا حلیہ بناکر ظاہر ہوا۔ مریدوں کی تعداد بڑھی تو سیاست میں آیا۔ میں نے دیکھتے ہی اسے پہچان لیا تھا۔ اس کے تین چہرے تھے۔ ایک دھاڑیل، دوسرا پیرسائیں اور تیسرا سیاستدان‘‘۔

میں نے بکرے سے کہا۔ ’’یہ تو تم مجھے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سندھی افسانے کا نچوڑ سنا رہے ہو‘‘۔

’’یہ نچوڑ نہیں ہے‘‘۔ بکرے نے کہا۔ ’’یہ اس افسانے کی تصدیق ہے۔‘‘

’’پھر پیر سائیں نے تمہیں آدمی سے بکرا کیوں بنادیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’پریس کانفرنس کے بعد میں نے پیر سائیں سے کان میں کہا تھا، میں آپ کو آپ کے تین چہرے دکھا سکتا ہوں۔ پیر سائیں نے چونک کر میری طرف دیکھا اور جنتر منتر سے مجھے بکرا بنا دیا۔‘‘ بکرے نے کہا ’’مگر پیر سائیں سے غلطی ہوگئی۔ انہوں نے مجھے آدمی سے بکرا تو بنادیا۔ مگر وہ میرا بولنا بند کرنا بھول گئے‘‘۔

YOUR REACTION?



Facebook Conversations



Disqus Conversations