اگر آپ نے 747 بوئنگ طیارہ قریب سے دیکھا ہو تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ جمبو بوئنگ کتنا بڑا ہے لہٰذا اس میں حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ اتنے بڑے طیارے کو بنانے والی فیکٹری کی عمارت کتنی بڑی ہوگی۔

بوئینگ

بوئینگ طیارے بنانے کی فیکٹری

کتنی بڑی؟ ذرا اپنے ذہن میں دُنیا کی بڑی سے بڑی عمارت تخیل میں لانے کی کوشش کیجیے۔

جب بوئنگ 747 طیارہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تو بوئنگ کمپنی نے سنہ 1967 میں ایویریٹ فیکٹری میں اپنے کام کا آغاز کیا تھا۔ بوئنگ کے کرشماتی شخصیت والے سربراہ، بِل ایلن نے اُسی وقت اندازہ لگا لیا تھا کہ اگر انھوں نے چار سو مسافروں کے لیے ایک جہاز بنانا ہے تو انھیں اُس کے لیے ایک بڑی جگہ درکار ہوگی۔ انھوں نے امریکی شہر سیاٹل سے 22 میل دور جنگل میں دوسری جنگِ عظیم میں استعمال ہونے والے ایک فوجی ہوائی اڈے کے قریب ایک جگہ کا انتخاب کیا۔

ایویریٹ کے مقامی اخبار ڈیلی ہیریلڈ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ اُس وقت یہ جگہ روایتی زندگی سے کتنی دور تھی۔ جو مائیٹر، وہ انجینئیر جس نے بوئنگ 747 کے پراجیکٹ کا آئیڈیا پیش کیا تھا، کہتے ہیں کہ اس فیکٹری کی جگہ تک پہنچنے کے لیے کسی بڑی شاہراہ سے ایک چھوٹی سے سڑک جاتی تھی اور وہاں اُس وقت ریلوے کا کوئی رابطہ بھی نہیں تھا۔ اس جنگل میں جنگلی ریچھ بھی دیکھ جا سکتے تھے۔

بوئینگاس فیکٹری میںن اب بوئنگ کے نت نئے طیارے تیار کیے جاتے ہیں

جس وقت وہاں دنیا کا اُس وقت کا سب سے بڑا طیارہ تیار کیا جا رہا تھا، اُسی وقت اُس فیکٹری کی تعمیر بھی جاری تھی جس میں اُسے بنایا جانا تھا۔

آج ایویریٹ فیکٹری اتنی بڑی ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی سے عمارت بھی اُس کے سامنے ایک بونا لگے گی اور اُس میں بآسانی سما سکتی ہے۔ گینیز بُک آف ریکارڈز کے مطابق، اس عمارت کا حجم 47 کروڑ مربع فُٹ ہے۔

بوئنگ کمپنی کی اس فیکٹری کے ٹورسٹ گائیڈ ڈیوڈ ریس کہتے ہیں کہ ’ہم نے دنیا کی بڑی بڑی عمارتوں کا اس سے موازنہ کیا۔ ورسائے کی عمارت، ویٹیکن کی عمارت، ڈزنی لینڈ۔ ان کو ذہن میں رکھ کر آپ اس فیکٹری کو دیکھیں۔‘

’مجھے یاد ہے کہ میں نے کچھ عرصہ قبل بی بی سی کو ایک انٹرویو دیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کے ویمبلی سٹیڈیم کتنا بڑا ہے؟ جب ہم نے موازنہ کیا تو پتہ چلا اس جیسے 13 سٹیڈیم اس فیکٹری میں سما سکتے ہیں۔‘

ایویریٹ فیکٹری میں اب بھی 747 بوئنگ طیارے تیار کیے جاتے ہیں لیکن کم تعداد میں۔ اب زیادہ تر توجہ 767، 777، اور 787 جیسے چھوٹے طیاروں کی تیاری پر دی جاتی ہے۔ اتنے سارے جہازوں کی تعمیر کے لیے بہت زیادہ جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایویریٹ فیکٹری کی مرکزی بلڈنگ تقریباً 98 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہے جو کہ لندن کے ٹریفیلگر سکوائر سے 30 گنا بڑی بنتی ہے۔

بوئینگجب بوئنگ 747 طیارہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تو بوئینگ کمپنی نے 1967 میں ایویریٹ فیکٹری میں اپنے کام کا آغاز کیا تھا۔

اس فیکٹری کی ہر شفٹ میں دس ہزار ورکرز کام کرتے ہیں اور ایک دن میں تین شفٹیں ہوتی ہیں۔ 24 گتھنٹوں کی ایک شفٹ میں اس فیکٹری کی آبادی آسٹریلیا کے شہر ایلس سپرنگز کے برابر ہوتی ہے۔

ریس نے اس فیکٹری میں 38 برس کام کیا ہے، جن میں 11 برس فیکٹری کے ٹؤرز کروانے کے بھی شامل ہیں۔ لیکن اُسے اب بھی وہ وقت یاد ہے جب اُس نے یہ فیکٹری پہلی مرتبہ دیکھی تھی۔

’پہلی مرتبہ یہ ششدر کرنے والا منظر تھا۔ اور میں آج بھی ہر روز اُسے اِسی طرح یاد کرتا ہوں۔ ہر روز یہاں کوئی ایک نئی بات ہوتی ہے۔‘

ایویریٹ فیکٹری اتنی بڑی ہے کہ اس میں 1300 کے قریب سائیکلیں موجود ہوتی ہیں تاکہ اندر کے سفر میں کم سے کم وقت لگے۔ اس کا اپنا فائر سٹیشن ہے، طبی سہولتوں کا اپنا مرکز ہے، اور ہزاروں ورکرز کے مختلف اقسام کے کھانوں کے ریستوران ہیں۔ اوپر آپ کو بڑی بڑی کرینز نظر آئیں گی جنھیں جب طیارے مکمل ہونے کے قریب ہوتے ہیں تو ان کے بڑے بڑے حصے جوڑنے کے لیے استمعال کیا جاتا ہے۔

ریس کے مطابق، ان کو چلانے والے اپنے کام میں بہت مہارت رکھتے ہیں اور شاید بہت زیادہ اُجرتیں حاصل کرنے والے ورکرز میں شمار ہوتے ہیں۔

اس فیکٹری میں کام کرنے، یا اس میں آنے والوں کے لیے کچھ قواعد و ضوابط بھی ہیں۔ ’ہمیں مخصوص قسم کے جوتے پہننا ہوتے ہیں۔ اس لیے نہ کھلے جوتے اور نہ ہی اونچی ہیل والے جوتے پہننے کی اجازت ہے، کوئی بھی ایسا جوتا جس سے آپ کے پاؤں کو چوٹ لگ جائے۔ اور آپ کو فیکٹری میں ہوتے ہوئے حفاظتی عینکوں کا بھی مسلسل استعمال کرنا ہوتا ہے۔ فیکٹری کو دیکھنے آنے والوں میں کچھ کو اعتراض بھی ہو سکتا ہے کہ بھئی میں تو پڑھنے کی عینک پہنتا ہوں، لیکن جو بھی ہو، حفاظتی عینک پہننا ضروری ہے۔‘

بوئینگایک طیارے کی تعمیر مکمل ہو جاتی ہے تو اسے قریبی رن وے کی طرف لے جایا جاتا ہے

اس فیکٹری کی کچھ بہت ہی حیران کُن باتیں ہیں۔ اس فیکٹری میں ہوا کی آمد و رفت کا انتظام تو ہے لیکن اس میں ائر کنڈیشننگ کا نظام نہیں ہے۔ ریس کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں یہ بہت گرم ہوجاتی ہے۔ انھیں اس کے بڑے بڑے دروازے کھولنے پڑتے ہیں تاکہ تازہ ہوا اندر آسکے۔ سردیوں میں لاکھوں کی تعداد میں روشن بلبز، بجلی کی مشینں، اور دس ہزار افراد کے جسموں کی گرمی کی وجہ سے اس فیکٹری کا درجہ حرارت معتدل رہتا ہے۔ ’میں اُن دنوں ایک سویٹر یا ایک ہلکی سی جیکیٹ پہنتا ہوں اور یہ کافی ہوتی ہے۔‘

یہاں ایک خیال یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس فیکٹری کی بلڈنگ اتنی بڑی اور اتنی اونچی ہے کہ اس کے اوپر کے حصے میں بادل بنتے ہیں۔ ریس کہتا ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ ’جب پہلا طیارہ بن رہا تھا تو اسی وقت فیکٹری کی تعمیر بھی جاری تھی۔ اور اُس وقت اس کی ایک دیوار مکمل نہیں ہوئی تھی۔ ہمارا خیال ہے کہ اس نا مکمل دیوار سے دُھند اندر آ کر جمع ہوگئی اور وہ ایک بادل جیسا تاثر دیتی ہے۔‘

’یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کہ آپ کے قریب کہیں جنگل میں آگ لگ جائے، اس طرح اندر فیکٹری میں دھندلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے۔‘

ریس کہتا ہے کہ اس فیکٹری کے اپنے اُتار چڑھاؤ ہیں، اس فیکٹری میں کام کی پیش رفت کے دوران نئے سے نئے بدلتے ہوئے اہداف دیے جاتے ہیں۔ ’دوسری شفٹ میں جب ورکرز کی تعداد کم ہوتی ہے تو اس دوران کرینز کا کام بڑھ جاتا ہے۔‘

’جب ہم ایک طیارے کو اس کی تیاری مکمل ہو نے کے بعد ہینگر سے بار متنقل کرتے ہیں تو اُسے چلا کر قریبی رن وے تک پہنچایا جاتا ہے۔ اور ہم اس پر کافی کام کرتے ہیں تا کہ جب پائلٹ اسے چلائے تو اُس کے لیے کوئی مسئلہ نہ ہو۔‘

یہ دنیا کی سب سے بڑی عمارت ہی نہیں ہے بلکہ بے انتہا حیرت انگیز باتوں سے بھی بھری ہوئی جگہ بھی ہے۔

YOUR REACTION?



Facebook Conversations



Disqus Conversations