وزیراعظم عمران خان کا کہناہے کہ پاکستان کو بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ معیشت کی بہتری کیلئے سعودی عرب سے ہنگامی بنیادوں پرقرض لینے کے خواہمشند ہیں۔ ریاض سے اچھے تعلقات قائم رکھنا پاکستان کی ترجیح ہے۔


بطور وزیراعظم غیرملکی میڈیا کو سعودی عرب روانگی سے پہلے اپنےپہلے انٹرویومیں عمران خان نے واضح کیا کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام کیلئے سعودی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ضروری تھی ، سعودی قرضوں کی ہنگامی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس دوماہ سے زیادہ کے زرمبادلہ ذخائر موجود نہیں۔

: وزیراعظم دو روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس دوست ممالک یا آئی ایم ایف سے قرض کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، قرض نہ لینے کی صورت میں زرمبادلہ کے ذخائر اتنے بھی نہیں کہ مزید 2 یا3 ماہ تک درآمدات کی ادائیگی کی جا سکے۔

عمران خان کے مطابق سعودی عرب سے مستحکم تعلقات پاکستان کے معاشی مفاد میں ہیں۔۔ریاض سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ناگزیرہے۔ اس موقع پرسعودی قیادت سے بات کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ ملک تاریخ کے بدترین قرض بحران سے دوچار ہے۔

استنبول کے سعودی سفارت خانے میں قتل کیے جانے والے صحافی جمال خاشقجی سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ اس واقعے کے باوجود پاکستان کو درپیش معاشی بحران کی وجہ سے ہم سعودی عرب سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ امید ہے سعودی عرب اپنی وضاحت سے دوسروں کو مطمئن کرنے میں کامیاب رہے گا اورذمہ دار افراد کو سزا دی جائے گی۔ جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے۔

YOUR REACTION?



Facebook Conversations



Disqus Conversations