وزیراعظم سے درخواست ہے آپ اپنی توجہ صرف بھینسوں پر مبذول رکھیں‘ مہربانی فرما کر انڈس جیسے اسپتالوں کو نہ چھیڑیں

لاہور معروف صحافی جاوید چوہدری کا اپنے ایک کالم " مریضوں کی بد دعائیں نہ لیں" میں کہنا ہے کہ ایک صاحب دل نے کورنگی کراسنگ کراچی میں 20 ایکڑ جگہ  دی‘ جیولری کے ایک تاجر نے 10 کروڑ روپے دیے اور انڈس اسپتال شروع ہو گیا۔اسپتال میں شروع میں 150بیڈز تھے‘ یہ بعد ازاں 300 بیڈ ہو گئے‘ کینسر کے مریض بچوں کے لیے 150 بیڈز کا یونٹ بھی بن گیا۔

اور یہ لاہورمیں 6 ارب روپے کی لاگت سے 600 بیڈز کا انڈس اسپتال بھی بنا رہے ہیں‘ اس اسپتال کے لیے قرشی دواء خانہ کے مالک اقبال قرشی اور این ایم اسٹورز اور لیڈزگارمنٹس کے مالکان جاوید ارشد بھٹی اور میاں محمد احسن نے ایک ایک ارب روپے  ڈاکٹر عبدالباری کو ڈونیشن دیا‘ آپ ڈاکٹر عبدالباری کے کام دیکھیں‘ آپ حیران رہ جائیں گے‘ لوگ بوریوں میں نوٹ بھر کر لاتے ہیں اور ان کے حوالے کر دیتے ہیں‘ ان کے پاس ایسے لوگوں کی طویل فہرست موجود ہے جن کا دعویٰ ہے آپ کو جس وقت جتنی رقم چاہیے آپ ہمیں فون کریں اور رقم انڈس کے اکائونٹ میں جمع ہو جائے گی۔

میاں شہباز شریف انھیں اپریل 2014 ء میں پنجاب لے کر آئے‘ انھیں مظفر گڑھ کا طیب اردگان اسپتال سونپا گیا‘ انڈس نے یہ اسپتال ٹیک اوور کر لیا‘ حکومت نے اس کے بعد انھیں بیدیاں روڈ کا 61 بیڈز کا تحصیل ہیڈکوارٹر‘ مناواں کا 100 بیڈز‘ سبزہ زار لاہور کا 100بیڈز‘ رائے ونڈ کا 100 بیڈز کا تحصیل ہیڈکوارٹر‘ کاہنہ نو کا سو بیڈز کا اسپتال اور ملتان کا 150 بیڈز کا کڈنی اسپتال سونپ دیا۔

ڈاکٹر عبدالباری خان پنجاب نہیں آنا چاہتے تھے لیکن میاں شہباز شریف ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر انھیں لاہور لے کر آئے تھے‘ یہ اس قدر بڑے انسان ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انھیں اتنی ہمت دے رکھی ہے کہ سندھ حکومت نے بدین میں 190بیڈز کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال ان کے حوالے کر رکھا ہے جب کہ عمران خان نے انھیں پشاور میں انڈس اسپتال بنانے کے لیے سو کنال جگہ دے رکھی ہے‘ یہ عنقریب وہاں بھی چیریٹی اسپتال بنا رہے ہیں‘ انڈس کے تحت چلنے والے تمام اسپتال مفت ہیں‘ پنجاب گورنمنٹ پنجاب کے سات اسپتالوں کو گرانٹ دیتی ہے۔

یہ لوگ باقی رقم مخیرحضرات سے اکٹھی کرتے ہیں اور مریضوں کا مفت علاج کرتے ہیں‘ میں ڈاکٹر عبدالباری خان اور ان کے کام سے واقف ہوں‘ یہ ایک مخلص اور دین دار شخص ہیں‘ ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتے ہیں‘ دن رات مریضوں کی خدمت کرتے ہیں‘ ان کی ٹیم بھی سیلف لیس لوگوں پر مشتمل ہے‘ یہ لوگ اب تک لاکھوں مریضوں کا علاج کر چکے ہیں‘ یہ مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے لیکن میں نئی حکومت کی غیر ضروری چھیڑ چھاڑ سے خوف زدہ ہوں‘ مجھے پنجاب حکومت کے ایک صاحب نے بتایا ہم انڈس سے سات اسپتال واپس لے رہے ہیں‘ میں یہ سن کر ڈر گیا۔

حکومت میں اسپتال تو کیا سڑک تک چلانے کی اہلیت نہیں‘ پنجاب میں اس وقت بھی ہزاروں اسپتال دہائیاں دے رہے ہیں‘ یہ سات چل رہے ہیں‘ میرا خدشہ ہے حکومت کہیں انھیں بھی واپس لے کر ان کا بھی بیڑہ غرق نہ کر دے‘ ڈاکٹر عبدالباری خدمت کر رہے ہیں‘ یہ کراچی میں خدمت کرتے رہیں‘ ان کا کچھ نہیں جائے گا لیکن لاکھوں مریض مارے جائیں گے چنانچہ میری وزیراعظم سے درخواست ہے آپ اپنی توجہ صرف بھینسوں پر مبذول رکھیں‘ مہربانی فرما کر انڈس جیسے اسپتالوں کو نہ چھیڑیں‘ مریضوں کی بددعائیں آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گی۔

YOUR REACTION?



Facebook Conversations



Disqus Conversations