ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں دنیا میں آچکی

نیویارک: حتیٰ کہ ڈرائیورز کے بغیر چلنے والی گاڑیاں تاحال عام نہیں ہوئیں، تاہم پھر بھی ایسی گاڑیاں دنیا میں آچکی ہیں، اور لوگ ان سے فائدہ بھی حاصل کر رہے ہیں۔

✕✕Powered by Greatadsسیلف ڈرائیونگ گاڑیاں محفوظ نہیں ہیں؟ کہ جواب میں 74 فیصد امریکیوں کا کہنا تھا کہ یہ محفوظ نہیں ہیں، جب کہ 73 فیصد برطانوی، 62 فیصد چینی، 72 فیصد جرمن، 65 فیصد فرانسیسی اور 64 فیصد بھارتی افراد کا بھی یہی خیال تھا کہ یہ محفوظ نہیں ہوتیں۔

اس حوالے سے سیلف گاڑیوں پر سب سے زیادہ بھروسہ برازیل کے افراد کا تھا، جہاں کے صرف 54 فیصد افراد نے خودکار گاڑیوں کو غیر محفوظ قرار دیا۔

میکسیکو کے بھی 58 فیصد افراد کو ان گاڑیوں پر یقین نہیں، جب کہ جنوبی افریقا کے 59 فیصد، جنوبی کوریا کے 81 فیصد، بیلجیم کے 69 فیصد اور اتنے ہی کینیڈا کے افراد بھی سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔

—فائیل فوٹو رائیٹرز

جاپان کے بھی 79 افراد یہ سمجھتے ہیں کہ سیلف ڈرائیونگ گاڑیاں غیر محفوظ ہیں، جب کہ اٹلی کے بھی 66 فیصد افراد کا خیال ایسا ہی ہے۔

سروے میں شامل مردوں کے مقابلے خواتین نے سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں پر زیادہ عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

سب سے زیادہ جنوبی کوریا و جاپان کی 84 فیصد خواتین کو لگتا ہے کہ ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں غیر محفوظ ہیں، جب کہ برطانیہ اس حوالے سے تیسرے نمبر پر ہے، جہاں کہ 81 فیصد خواتین ان گاڑیوں کو قابل بھروسہ نہیں سمجھتیں۔

، امریکا کی 76 فیصد خواتین سمجھتی ہیں کہ ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں غیر محفوظ ہیں، جب کہ اٹلی کی 72 فیصد، بھارت کی 67 فیصد جنوبی افریقا کی 64 فیصد، میکسیکو کی 62 فیصد اور جرمنی کی 79 فیصد خواتین بھی سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں پر یقین نہیں کرتیں۔

کینیڈا کی 75 فیصد، فرانس کی 72 فیصد، چین کی 64 فیصد، برازیل کی 58 فیصد اور بیلجیم کی 75 فیصد خواتین سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔