اگرآپ امیر بننا چاہتےہیں؟؟؟

ایسا مانا جاتا ہے کہ ہر ایک کو دولت مند بننے یا زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے یکساں مواقع ملتے ہیں مگر کیا یہ خیال واقعی ٹھیک ہے؟

کافی حد تک تو ایسا ہوتا ہے مگر چند چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کے دولت مند بننے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔

یقیناً مستقبل کی پیشگوئی کوئی نہیں کرسکتا مگر چند چیزوں یا عادتوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زندگی میں کامیابی لگ بھگ ناممکن ہوگی۔

کیا یہ عادتیں یا چیزیں آپ کے اندر بھی تو موجود نہیں؟

کمانے کی بجائے بچت پر بہت زیادہ زور

مزید روپے کمانے کے مﺅثر طریقوں میں سے ان کی سرمایہ کاری کرنا ہے اور اسے جتنا جلد شروع کریں گے انتا ہی بہتر ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اوسطاً ایک کروڑ پتی فرد اپنی آمدنی کا بیس فیصد حصہ سرمایہ کاری پر صرف کرتا ہے، ان کی دولت کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہ ہر سال کتنا کماتے ہیں بلکہ کیسے بچت کرتے اور وقت کے ساتھ سرمایہ کاری کرتے ہیں، یہ معنی رکھتا ہے۔ آپ جتنی سرمایہ کاری کریں گے وہ بہتر ہے جس کے لیے مختلف ذرائع ہیں جیسے ریٹائرمنٹ کے لیے بچت کے لیے مختلف اکاﺅنٹس میں سرمایہ کاری وغیرہ۔

لگی بندھی تنخواہ پر مطمئن

اگر آپ اپنی آمدنی سے زیادہ خرچہ کرتے ہیں تو امیر بننے کا خواب بھی نہیں دیکھنا چاہئے، یہاں تک کہ اگر آپ کی آمدنی بڑھ جاتی ہے یا تنخواہ میں اچھا اضافہ ہوتا ہے تو یہ اپنے طرز زندگی کو پرتعیش بنانے کے لیے جواز نہیں۔ اکثر امیر افراد اس وقت تک مہنگی چیزوں کو نہیں خریدے جب تک ان کی سرمایہ کاری کئی ذرائع سے زیادہ آمدنی فراہم نہیں کرنا شروع کردیتی۔

اپنے نہیں کسی اور کے خواب کی تعبیر کے لیے سرگرداں

اگر آپ دو لت مند ہونا چاہتے ہیں، کامیاب ہونا چاہتے ہیں یا زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو آپ کو غیریقینی یا تکلیف جیسے احساسات کو استعمال کرنا چاہئے، امیر افراد غیریقینی صورتحال میں بھی مطمئن رہتے ہیں، ماہرین کے مطابق جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی اطمینان متوسط طبقے کے ذہن میں بنیادی مقصد ہوتا ہے، بلند سوچ رکھنے والے جلد یہ سیکھ لیتے ہیں کہ امیر بننا آسان نہیں اور ایک حد تک محدود ہونا تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

دولت کے استعمال کے لیے مقصد نہ ہونا

لوگو پیسے کما کر اسے یہاں وہاں خرچ کرنا شروع کردیتے ہیں، جیسے گھر کا کرایہ، یوٹیلیٹی بلز، ٹیکسز اور دیگر، جبکہ آخر میں جو بچتا ہے (اگر بچے) تو اسے بچت کے زمرے میں ڈال دی اجاتا ہے۔ یہ اخراجات ضرور کریں کیونکہ وہ ضروری ہیں مگر پہلے خود کو رقم دیں یا یوں کہہ لیں کہ پہلے بچت کریں اور وہ بھی کم از کم آپ کی آمدنی کے 10 فیصد حصے کے برابر۔ اس طرح آپ کو کفایت شعاری سے زندگی گزارنے کی تربیت بھی حاصل ہوگی۔

امیر بننا ناممکن لگتا ہے

اوسط درجے کے شخص کا خیال ہوتا ہے کہ صرف خوش قسمت افراد امیر بن پاتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ کسی سرمایہ دارانہ ملک میں آپ کے پاس امیر بننے کا ہر حق ہوتا ہے، مگر اس کے لیے آپ کے اندر عزم ہونا چاہئے۔ سب سے پہلے خود سے سوال کریں کہ میں اپنے طبقے (نچلے یا متوسط) سے اوپر کیوں نہیں اٹھ سکتا، اس کے بعد کچھ بڑا سوچنا شروع کریں، اپنی توقعات بلند کریں گے تو کامیابی بھی قدم چومے گی۔