واضح رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج شہزاد رضا نے چیک ریپبلک سفارتخانے کی ڈپٹی سیکرٹری کی موجودگی میں 20 مارچ کو منشیات اسمگلنک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ماڈل کو سزا سنائی تھی۔
عدالت نے قرار دیا تھا کہ پراسیکیوشن نے ٹریزا کی ہیروئن اسمگل کرنا ثابت کردیا تاہم ماڈل ٹریزا اپنی بے گناہی ثابت نہیں کرسکیں، عدالت نے اپنے فیصلے میں ملزمہ کو حق دیا تھا کہ وہ ہائیکورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ غیر ملکی خاتون کو 10 جنوری 2018 کو ساڑھے 8 کلو ہیروئن اسمگل کرنے پر گرفتار کیا تھا، غیر ملکی ماڈل کے ساتھ مزید 4 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا جس میں سے تین اشتہاری ہیں اور شعیب نامی ملزم کو عدم ثبوت پر بری کیا گیا تھا۔