جب گجرانوالہ کے شہریوں پر برطانیہ نے بمباری کی

برطانوی ائر فورس نے عراق میں عوامی بغاوت کو کچلنے کے لیے بمباری سنہ 1920 میں کی تھی جسے برطانوی رہنما ونسٹن چرچل نے ’ایریل پولیسنگ‘ کا نام دیا تھا۔


یوں تو ایک دشمن پر ہوائی بمباری یا آتش گیر مادہ پھینکنے کی ایک پرانی تاریخ ہے، لیکن شاید گجرانوالہ وہ پہلا شہر قرار دیا جا سکتا ہے جہاں نہتے عوام کے مظاہروں کو کچلنے کے لیے پہلی 'ایرئیل پولیسنگ' یعنی ہوائی بمباری کا استعمال کیا گیا۔

گجرانوالہ جو کہ اب پاکستان کے پنجاب کا ایک شہر ہے، پر 14 اپریل سنہ 1919 کی دوپہر کو لاہور والٹن کے ایئر پورٹ سے اڑنے والے تین فوجی جہازوں نے نہتے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے بمباری کی۔ اس سے پہلے ہوائی بمباری زمینی فوج کے تعاون سے دشمن کی فوج یا فوجی اہداف پر کی جاتی تھی۔

گجرانوالہ کی بمباری کے بعد اس ہوائی طاقت یا 'ایریل پولیسنگ' کو سیاسی مقاصد کے لیے نہتے شہریوں پر استعمال برطانوی پالیسی کا حصہ بنا۔ 'ایریل پولیسنگ' کے لفظ کا استعمال سب سے پہلے برطانوی سیاست دان ونسٹن چرچل نے کیا تھا جب سنہ 1920 میں عراق میں شیعہ اور سنی نہتے عوام نے برطانوی کنٹرول کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔

پھر اس بمباری کو ایک 'ایریل پولسنگ' کے حربے کے طور پر صومالیہ میں بھی استعمال کیا گیا۔ اور یہ مختلف صورتوں میں اب بھی استمعمال ہو رہی ہے۔


گجرانوالہ میں بمباری کا پس منظر

جلیانوالہ باغ کا قتلِ عام سفاکی اور ظلم کے لحاظ سے برطانوی غلامی کے دور کا ایک بد ترین واقعہ ہے، جسے اگلی نسلیں کبھی بھول نہیں پائیں گیں۔

برطانوی حکمرانوں نے رولٹ ایکٹ 1919 کے مظاہروں کے خلاف ہونے والے عوامی ردِعمل کی بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے تھے۔ برٹش انڈین حکمران اپنی پوری طاقت کو استعمال کر کے اس وقت کی عوامی بغاوت کو کچلنا چاہتے تھے۔



ڈس آرڈر انکوائری کمیٹی جو سنہ 1919 میں رولٹ ایکٹ کے بننے کے بعد عوامی مظاہروں کے ردعمل اور انتظامیہ کی جانب سے کاروائی کی تحقیق کے لیے بنی تھی۔

گجرانوالہ پر بمباری کے واقعہ کا ذکر پاکستان اور ہندوستان کی تاریخ میں کم ہی آتا ہے۔ اس لیے اس واقعے کی تفصیلات کے لیے اسی انکوائری کمیٹی سے حاصل کی گئیں ہیں۔ اس انکوائری کمیٹی میں متحدہ ہندوستان کی سنہ 1919 کی سیاسی شورشوں کا ذکر ہے لیکن یہاں صرف گوجرانوالہ پر ہوائی بمباری پر کی گئی انکوائری کے حصوں کی تلخیص بیان کی گئی ہے۔

بمباری سے پہلے کا گجرانوالہ

لاہور سے تقریباً چالیس میل دور تقیریاً تیس ہزار افراد کے شہر گجرانوالہ میں ہنگامے شروع ہو گئے تھے۔ پانچ اپریل 1919 کو ایک مقامی سیاسی اجلاس میں رولٹ ایکٹ کو مسترد کردیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں دلی کے حکمرانوں کی جانب سے رولٹ ایکٹ کے خلاف عوامی مظاہروں پر فائرنگ کے شدید مذمت کی گئی تھی۔ مختلف شہروں میں رہنے والے فائرنگ کے ان واقعات سے متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ چھ اپریل کو قومی سطح پر یومِ احتجاج منایا جائے اور اس دن ہر شخص 24 گھنٹوں کا روزہ رکھے اور سارا دن ہر قسم کا کاروبار بند کردے۔

اس وقت گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر، کرنل اوبرائین نے اس ہڑتال کے خلاف سخت کاروائی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم یہ ہڑتال پُرامن رہی۔ 12 اپریل کو کرنل اوبرائین کا تبادلہ ہوگیا اور ان کی جگہ خان بہادر مرزا سلطان احمد کو گوجرانوالہ ڈسٹٹرکٹ کا عارضی چارج دیا گیا۔

اس دوران ہندوستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں کی طرح پنجاب کے کئی شہروں میں بھی رولٹ ایکٹ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔ دس اپریل تک گوجرانوالہ میں مزید مظاہروں کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ لیکن لاہور اور امرتسر کے مظاہروں پر گولیاں چلانے اور ہلاکتوں کی خبریں آنے کی وجہ سے اشتعال بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔

تاہم جب تیرہ اپریل کے روز جلیانوالہ باغ کے قتلِ عام کی خبریں افواہوں کی صورت میں پھیلنے لگیں تو پھر ایک عوامی ردعمل آنا یقینی نظر آرہا تھا۔ لیکن ضلعی انتظامیہ کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ ردِعمل اتنی شدت کا ہوگا کہ اسے قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ پھر بھی جتنی بھی پولیس کی تعداد ممکن تھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں جمع کرلی گئی تھی۔

انتظامیہ کو حالات کی نزاکت کا احساس ہو گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے گوجرانوالہ میں امریکی مشنیریز کو یہ پیغام بھجوایا کہ وہ جلیانوالہ باغ واقعے کے ردعمل کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے تاکید کرتے ہیں کہ اس میں کام کرنے والی عورتوں کو عارضی طور پر شہر سے باہر محفوظ مقام پر منتقل دیا جائے۔

گجرانوالہ میں بمباری کرنے کا فیصلہ پنجاب کے اس وقت کے گورنر سر مائیکل اڈوائر نے کیا تھا کیونکہ ان کے لیے اس شہر سے آنے والی اطلاعات ایک ’شاک‘ تھیں۔گجرانوالہ پر بمباری کا آغاز

تین جہازوں کے اس مشن کی قیادت اس وقت کے میجر کاربیری کر ہے تھے جو 31 سکواڈرن کے کمانڈر تھے۔ ان کا جہاز گجرانوالہ کی حدود میں سب سے پہلے پہنچا اور انھوں نے سات سو فٹ سے لے کر صرف سو فٹ تک کی نیچی پروازیں کیں تاکہ گجرانوالہ شہر اور اس کے ارد گرد تین میل علاقے کا فضائی جائزہ لے سکیں۔

میجر کاربیری کے مطابق، انھوں نے ریلوے سٹیشن اور اس کے گوداموں کو جلتے ہوئے دیکھا۔ سٹیشن سے باہر ایک ٹرین بھی نظر آئی جس میں آگ لگی ہوئی تھی۔ سٹشن پر اور سٹیشن سے سول لائینز تک اس سے ملحقہ سڑکوں اور گلیوں میں لوگ ہی لوگ تھے۔ سول لائینز میں انگلش چرچ اور چار گھروں پر آگ لگی ہوئی تھی۔

بمباری کرنے والے جہازوں کے پائلٹوں کو زبانی ہدایات دی گئیں تھیں کہ وہ اگر ہجوم پر بمباری کریں تو صرف کھلے میدانوں میں کریں۔ اس کے علاوہ اگر پائلٹس شہر سے باہر کہیں کوئی ایسا ہجوم دیکھیں جو شہر کی طرف بڑھ رہا ہو تو اسے منتشر کرنے کے لیے بمباری کر سکتے ہیں۔

میجر کاربیری کے جہاز کی بمباری

جلیانوالہ باغ کے قتلِ عام کا بدلہ لینے کے لیے اودٌھم سنگھ نے اس وقت کے پنجاب کے لیفٹینینٹ گورنر سر مائیکل اوڈوائیر کو اس واقعے کے تقریباً 21 برس بعد لندن میں آکر قتل کیا۔ ادھم سنگھ اپنے وقت کا ایک انقلابی سمجھا جاتا ہے۔ ہندو مسل اتحاد کے لیے اس نے اپنا نام ’رام محمد سنگھ آزاد‘ رکھ لیا تھا۔

اس کمیٹی کی انکوئری کے مطابق میجر کاربیری نے کل ملا کر آٹھ بمب گرائے تھے اور ان میں سے دو جو شہر کے اندر گرائے تھے ان کے بارے میں انکوائری کا خیال ہے کہ ان کا ہدف عوام کے ہجوم تھے۔ میجر کاربیری نے سٹیشن کی طرف آنے والے ہجوم پر کُل ملا کر ڈیڑھ سو گولیں فائر کیں تھیں۔

باقی دو جہازوں کی بمباری

اس کے علاوہ انکوائری کمیٹی کے مطابق دو دیگر جہاز جو لاہور سے گجرانوالہ پر بمباری کے لیے بھیجے گئے تھے، ان میں ایک نے تو کوئی کاروائی نہیں کے۔ البتہ دوسرے جہاز نے اپنی مشین گن سے پچیس گولیاں فائر کیں تھیں۔

انکوائری کمیٹی ان جہازوں سے پھینکے جانے والے بموں اور گولیوں کی تعداد سے مطمئن نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے اس نے ایک اور ذریعے سے اندازہ لگایا کے طاقت کا زیادہ استعمال ہوا تھا۔

اس وقت راولپنڈی میں تعینات سیکینڈ ڈویژن کی وار ڈائری میں 14 اپریل کو شام چھ بجےایک رپورٹ درج ہوئی تھی: 'رائل ایئر فورس کے لیفٹینینٹ کربی نے گجرانوالہ میں آتشزدگی کے واقعات کی تصدیق کی اور کہا کہ انھوں نے ہنگامہ کرنے والوں پر کامیابی سے فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ جہاز کو وزیرآباد کے ایک میدان میں اتارنے پر مجبور ہوئے تھے۔ وہاں مظاہرین جمع ہوگئے اور ان کے جہاز پر حملہ کرے والے تھے۔ لیکن انھوں نے جہاز کو دوبارہ سٹارٹ کرلیا اور اسے اُڑانے میں کامیاب ہوگئے۔'

ہلاکتوں کی سرکاری تعداد

ان واقعات کے بعد انتظامیہ کے اعلیٰ افسر، کرنل اوبرائین نے انکوائری کمیٹی کو بتایا تھا کہ 14 اپریل کی رائل ایئر فورس کی بمباری اور ہنگاموں سے گجرانوالہ میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 27 زخمی ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹBBC URDUImage captionڈس آرڈرز انکوائری کمیٹی کا سرِورق۔ اس کمیٹی میں ہندوستان کے کئی شہروں میں ہونے والی عوامی „بغاوتوں‘ سرکاری موقف پیش کیا گیا وہیں اس میں گوجرانوالہ پر سنہ 1919 میں ہونے والی بمباری پر ایک پورا باب موجود ہے۔بمباری کا فیصلہ کس نے کیا تھا

گجرانوالہ میں بمباری کا فیصلہ لاہور میں اس وقت کے پنجاب کے لیفٹینینٹ گورنر، سر مائیکل اوڈوائیر نے کیا تھا۔ ان کے بقول گجرانوالہ کے مظاہرے ان کے لیے ایک جھٹکے کی مانند تھے۔ 'ہمیں اس شہر سے مظاہروں کی خبر 14 اپریل کو ملی جب پورے پنجاب میں بغاوت اپنے عروج پر تھی۔' انھیں صوبے کے ہر حصے سے حملوں کی خبریں آرہیں تھیں۔ امرتسر کے قریب ایک ٹرین کو الٹ کر ہجوم نے ریل لائن سے اتار دیا تھا۔ سر مائیکل اوڈوائیر کے مطابق، گجرانوالہ میں حالات پر قابو پانے کے لیے فوج روانہ کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے ایئر فورس کا استعمال کیا گیا۔

اگلے دن دوبارہ بمباری

15 اپریل کو ایئر فورس کا ایک اور افسر لیفٹینینٹ ڈوڈکِنز کو اوپر سے حکم آیا کہ وہ گجرانوالہ کی جانب پرواز کرے اور لاہور اور گجرانوالہ کے درمیان ریلوے لائن کا جائزہ لے کہ آیا وہ تباہ تو نہیں ہو گئی ہے۔ اسے یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ گوجرانوالہ کی تازہ ترین حالات کا بھی فضائی جائزہ لے۔ اسے کسی بھی بڑے ہجوم کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا گیا تھا۔

اس افسر کو گوجرانوالہ میں تو کوئی گڑبڑ نظر نہیں آئی لیکن ایک میل باہر شہر کے مغربی علاقے میں تیس چالیس افراد نظر آئے۔ اس نے ان پر مشین گن سے فائرنگ کی۔ اس کے بعد ایک اور گاؤں میں تیس یا پچاس افراد کا ہجوم نظر آیا۔ لیفٹینینٹ ڈوڈکِنز نے اس ہجوم پر ایک بمب پھینکا جو ایک گھر میں گرا اور پھٹا۔ انکوائری نے تسلیم کیا کہ ان دونوں بموں سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کا کوئی علم نہیں ہوسکا۔