ایف بی آر کے اندر سے نئے چیئرمین کے تقرر کی مخالفت، گریڈ 22 کا افسر لگانے کا مطالبہ

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اندرونی حلقوں سے ادارے کے نامزد چیئرمین شبر زیدی کی تقرری پر شدید مخالفت سامنے آرہی ہے۔

وفاقی وزیر قانون کا مزید کہنا ہے کہ شبر زیدی کوئی تنخواہ نہیں لیں گے اور اعزازی خدمات سرانجام دیں گے، مفادات کے ٹکراؤ کا دعویٰ غلط ہے۔

گزشتہ روز تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران بھی نئے چیئرمین ایف بی آر کے تقرر کا معاملہ زیر بحث آیا۔ 

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران اراکین نے وزیراعظم سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کہتی ہے غیر منتخب لوگ آگئے ہیں، حکومتی پالیسیوں میں عوام کے نمائندوں کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا، پارلیمنٹ میں اہل لوگ موجود ہیں اس لیے غیر منتخب لوگوں کو مسلط کرنا ناقابل قبول ہے۔

اراکین اسمبلی کی شکایات پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کو ٹھیک کرنا ہے، اپنے فیصلوں کی ذمہ داری لیتا ہوں، آپ کے تحفظات اپنی جگہ ٹھیک ہیں لیکن کچھ سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

وزیر اعظم سے نامزد چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کی کل ملاقات بھی ہوئی تھی جس میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ بھی موجود تھے، اس موقع پر ایف بی آر کے امور پر بات چیت ہوئی اور وزیر اعظم نے شبر زیدی کو ایف بی آر میں اصلاحات سے متعلق اپنے وژن سے آگاہ کیا۔