اس کی مثال یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ برس پورے پاکستان کے اندر الیکٹرانک ٹرانزیکشنز یعنی آن لائن خرید و فروخت کی لاگت ایک ارب سے زیادہ رہی۔
یہاں یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ اس میں دراز، اوبر، کریم وغیرہ شامل نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی پے منٹ کے لیے گیٹ وے لوکل نہیں ہیں۔ مطلب آپ جب کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہیں تو ٹرانزیکشن باہر ہوتی ہے، آپ کے ملک کی مقامی سطح پر ای کامرس میں شامل نہیں ہوتی۔
یہ پورے پاکستان میں دکانوں میں ہونے والی خریداری کے مقابلے میں نصف فیصد ہے جبکہ انڈیا میں آن لائن خریداری دو فیصد ہے اور امریکہ میں نو فیصد ہوتی ہے اور چین میں یہ 23 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
پے پیل پاکستان کے لیے کیوں اہم؟
پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد چھ کروڑ سے زیادہ ہے لیکن یہ صارفین آن لائن خریداری نہیں کر سکتے کیونکہ پے منٹ کے سسٹم یہاں اچھے نہیں۔
دنیا بھر میں پے پیل کی مانگ اور حیثیت کی وجہ سے پاکستان بین الاقوامی کامرس بڑھا سکتا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ وہ اپنی برآمدات کو بڑھائے۔ یہ تب ہو گا جب آپ باہر چیزیں بھجوائیں اور وہاں سے پیسے بھی وصول کریں اور یہ صرف بڑی کمپنیوں کی سطح پر نہ ہو بلکہ لوگ چھوٹی سطح پر بھی یہ کریں۔
اس وقت پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے اوپر ہے جبکہ ہماری برآمدات تقریباً 20 ارب ڈالر ہیں۔
اس کے مقابلے میں سنگا پور جس کی کل آبادی 50 لاکھ ہے، کی برآمدات 372 ارب ڈالر ہیں۔
یہ نہیں کہ پاکستان میں ہنر کی کمی ہے ہر کسی کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر ہے لیکن مسئلہ مارکیٹ میں رسائی اور پیسے کا ہے۔ اب یہ دونوں چیزیں ہو بھی جائیں تو یہاں کے ہنر مند افراد کے لیے مسئلہ پے پیل جیسی کمپنی کی جانب سے دی جانے والی سہولت کی عدم دستیابی کا ہے۔
پے پیل کو پاکستان آنے میں کیا مسئلہ ہے؟
پے پیل جس ملک میں بھی کام کرتی ہے وہ اس ملک کے قانون کے مطابق چلتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپ کے ملک کا قانون اور متعلقہ فنانشل لاء کتنے مضبوط ہیں اور ان پر عملدرآمد کتنا ہوتا ہے۔
اس وقت اس بڑی کمپنی کے پاکستان میں آنے سے معذرت کی وجہ منی لانڈرنگ، دہشت گردی اور اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی رینکنگ ہے، کیونکہ اگر ان کی چھوٹی چھوٹی پے منٹ بھی غلط جگہ پر استعمال ہو گئی تو ان کی ساکھ بھی خراب ہو گی۔
اور اگر اس طرح کے اقدامات ہوتے بھی ہیں تو متعلقہ کمپنی یہ جاننا چاہے گی کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان چیزوں کا سد باب کرنے اور ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کتنے فعال ہوتے ہیں تاکہ دوبارہ کوئی ایسا نہ کرے اور کوئی بھی کمپنی یہ مطالبات ضرور کرتی ہے۔
ہر حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ پے پیل اور بین الاقوامی کمپنیاں یہاں آئیں لیکن زبانی کلامی ایسا کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔
ہماری حکومت ان سے یہ تو کہتی ہے کہ آپ آ جائیں لیکن حکومت کو ان سے بیٹھ کر واضح طور پر بات کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ان کے کیا تحفظات ہیں اور پھر پاکستان ان مسئلوں کو حل کرے۔
اور یہ صرف پے پیل کے ساتھ نہیں دیگر بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ بھی یہ بات کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔
پاکستان پے پیل کے مقابلے میں چھوٹی کمپنیوں کو لا سکتا ہے۔ اس میں گوگل پے منٹ، وی چیٹ، واٹس ایپ، سٹرائپ، ایمازون شامل ہیں۔ اگر پاکستان پہلے لیول پر ان کمپنیوں سے بھی بات کرے، انھیں لے کر آئے تو یہ بہت اچھا ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے پے پیل کے لیے جو قانونی اور مقامی سطح پر مسئلہ ہے وہ بھی حل ہو جائے گا۔ ہمارے قوانین بہتر ہوں گے تو پے پیل بھی پاکستان میں دلچسپی لے گا۔
اور یاد رکھیے کہ ابھی آنے والے نئے بزنس ماڈلز میں سبھی کمپنیاں آپ سے یہی ڈیمانڈ کریں گی یہ بات صرف پے پیل تک محدود نہیں۔۔۔