امریکا کا نیا محاذ کھولنے کی تیاری

خلیج کے پانیوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پورے خطے کے لیے خطرہ بن رہی ہے لیکن ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے پس پشت مقاصد سمجھنے کی ضرورت ہے۔

امریکا خلیج فارس، خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں اپنے پکٹ بنانے کا خواہاں ہے۔

اب تک بحیرہ ہند میں امریکا، چین اور بھارت کے درمیان اقتصادی اور معاشی برتری کی دوڑ جاری ہے جہاں ایشیائی ممالک کے ساتھ خلیجی ممالک پر گرفت حاصل کرنے کی کوشش بھی کارفرماں ہے۔

چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ امریکا اور بھارت کو پریشان کیے ہوئے ہے، پاک چین معاشی کوریڈور جو اہم ترین حصہ ہے اور چین کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل بھی جس پر بھارت اور امریکا کے تحفظات شدید ہیں، ایسے میں ایران کو جواز بنا کر امریکا اپنے بحری جنگی بیڑے کو نہ صرف خلیج فارس، بحیرہ عرب اور خلیج عمان میں تعینات کر لے گا بلکہ بحیرہ ہند پر مضبوط دسترس حاصل کرنے کی کوشش بھی کرے گا۔

یہاں بھی یہی سوال ہے کہ کیا یہ تیل کی خلیجی ممالک سے ترسیل اور عالمی تجارت پر بھی اثر انداز ہونےکی کوشش کا حصہ ہے تاکہ چین کے عالمی معیشت میں بڑھتے قدم روکے جاسکیں؟۔

بحری دفاعی امور کے ماہر کموڈور سید عبیداللہ کہتے ہیں 'امریکا ایران تصادم کی صورت میں عالمی معیشت مفلوج ہو کر رہ جائے گی، خلیج فارس سے دنیا کو تیل کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہوگی جبکہ بحیرہ عرب اور بحیرہ ہند میں آزادانہ تجارتی آمدورفت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے'۔

انہوں نے کہا کہ ایران زمینی راستوں سے وسط ایشیا کے ممالک کو گیس اور دیگر اشیاء کی برآمدات سے اپنی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کرے گا۔

پاکستان اس صورتحال میں کیا کرے؟

پاکستان کے ایران سے تعلقات کی نوعیت کچھ علیحدہ ہے جبکہ اس کے سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک سے بھی بہتر تعلقات ہیں تاہم اس صورت حال میں پاکستان کے لیے اس تنازع سے فاصلہ رکھنا بڑا سفارتی چیلنج ہوگا۔

لگتا یوں ہے کہ عالمی سطح پر طاقت کو برقرار رکھنے، معاشی اجارہ داری قائم رکھنے اور دوسری طرف نئے بننے والے اتحادوں کی جانب سے گیم چینج کرنے کی جدوجہد جاری ہے لیکن اقوام عالم اس کوشش میں دنیا کے امن کو تباہ کرنے کے کسی ا قدام کی حمایت کرتی نظر نہیں آتیں، یہی وجہ ہے کہ یورپ، ایشیا، افریقہ سمیت دیگر خطوں کے ممالک ان تنازعات کو مذاکرات سے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں ۔

ماضی میں عراق پر امریکی حملے کے تناظر میں دیکھا جائے تو حملے کے بعد خطرناک کیمیائی ہتھیار رکھنے کا الزام غلط ثابت ہوا اور دنیا میں یہ بات عام ہوئی کہ امریکا کی فوجی کارروائیاں دراصل معاشی مفادات سمیٹنے کے لیے طاقت کا اندھا دھند استعمال ہے۔