الیکشن کمیشن نے عمران خان سے توہین عدالت کی درخواست پر پھر جواب مانگ لیا، چیف الیکشن کمشنر نے وارننگ دی ہے کہ آئندہ سماعت پر جواب نہ دیاتوقانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔
پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کی سربراہی میں الیکشن کمیشن نے کی، درخواست گزار اکبر ایس بابرکے وکیل نے دلائل میں کہا کہ پی ٹی آئی نے ان کے موکل کو ستمبر 2014 میں پارٹی سے نکالا،پی ٹی آئی کے بینک اکاونٹس کے فورنزک آڈٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے درخواست گزار اکبر ایس بابر سے پی ٹی آئی سے نکالے جانے کی تفصیلات طلب کر لیںاور ان کی جانب سے فیصلے کو چیلنج کرنے کی دستاویزات بھی پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 24 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے عمران خان سے توہین عدالت کی درخواست پر جواب مانگ لیا۔چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ توہین عدالت کا معاملہ تو بدتمیزی سے متعلق ہے،آئندہ سماعت پر جواب نہ دیا گیا تو توہین عدالت کی درخواست پر قانون کے مطابق کاروائی کریں گے، آج کوئی جلسے میں پھر وہی باتیں کرے تو کیا ہم نوٹس جاری نہیں کرسکتے۔
اس پرپی ٹی آئی کے وکیل نے آئندہ سماعت پر توہین عدالت کا جواب جمع کرانے کی یقین دہانی کرادی۔