لیاقت آباد دس نمبر پر لگنے والا پرندوں کا ہفتہ وار بازار کاروبار کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اس بازار میں کبوتر، مرغی، آسٹریلین طوطوں جیسے عام پرندوں کے علاوہ اعلیٰ اور نایاب نسل کے قیمتی پرندے بھی فروخت کیے جاتے ہیں۔ لیاقت آباد میں پرندوں کا بازار گزشتہ کئی دہائیوں سے لگایا جارہا ہے۔ پندرہ سال قبل یہ بازار لیاقت آباد ڈاکخانہ سے شروع ہوکر سپر مارکیٹ اور فردوس شاپنگ سینٹر تک سڑک کے درمیانی گرین بیلٹ پر لگایا جاتا تھا، تاہم ٹریفک کے اژدھام اور گرین بیلٹ کی چوڑائی کم ہونے کے بعد یہ بازار بتدریج لیاقت آباد سے باہر کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
سبز سیاہ، سرمئی اور فیروزی رنگوں والے طوطے 3 ہزار سے5 ہزار روپے تک فروخت کیے جارہے ہیں۔گرے کاک ٹیل 1500سے 1800 روپے، سفید اور پیلے کاک ٹیل 3 ہزار روپے فی جوڑا ،جبکہ سفید اور سرمئی کاک ٹیل5 سے 10ہزار روپے فی جوڑا تک فروخت کیے جارہے ہیں۔ سرخ چمکدار چونچ والی دودھ جیسی سفید جاوا چڑیا کا جوڑا 1200سے1500روپے میں فروخت ہورہا ہے، رنگ برنگی ننھی فنچ چڑیاں ،عام بجری طوطے، سرخ آنکھوں والے بجری طوطے (ریڈ آئز)، کنگ سائز کے بجری طوطےبھی یہاں فروخت کیے جاتےہیں۔بازار میں چکور کی قیمت 8سے 10ہزار روپے طلب کی جارہی ہے جبکہ چھوٹی عمر کے چکور 5 سے6ہزار روپے میں فروخت کیے جارہے ہیں۔
پاکستان سے خلیجی ریاستوں کو زندہ پرندوں کی برآمدات (ایکسپورٹ) پر پابندی کے بعد سے پرندوں کے کاروبار میں منافع کا تناسب کم ہوگیا ہے۔ ایکسپورٹ کی وجہ سے اس کاروبار کو تیزی سے فروغ مل رہا تھا اور بڑے سرمایہ کار بھی اس شعبے کا رخ کررہے تھے ،جن کو دیکھ کر چھوٹے چھوٹے کاروباری اور شوقیہ افراد نے بھی اپنا سرمایہ پرندوں میں لگایا تھا، تاہم ایکسپورٹ پر پابندی اور قیمتیں گرنے کی وجہ سے انھیں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔ کراچی کی آب و ہوا پرندوں کی افزائش کے لیے موزوں ہے کیونکہ یہاں زیادہ سردی نہیں پڑتی۔
ہفتہ وار تعطیل کے باعث بند ہونے والے میڈیکل اسٹوروں اور دکانوں کے باہر پرندوں کا فضلہ اور کچرا جمع ہوجاتا ہے، جس سے اٹھنے والی بدبو اور تعفن سے دکانداروں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا ہے بازار میں پرندوں کی خرید و فروخت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اس بازار کو منظم کرکے روزگار کے مواقع بڑھانے کے ساتھ حکومت کی آمدن میں بھی اضافہ کرسکتی ہے ۔موسم سرما کے دوران پرندوں کی مارکیٹ میں اندرون سندھ اور دیگر شہروں سے بڑے پیمانے پر دیسی مرغیاں اور چوزے لاکر فروخت کیے جاتے ہیں،یہاں دیسی انڈے بھی کم قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد اس بازار سے ہفتہ وار بنیاد پر دیسی مرغیاں خرید کر قریب واقع مرغی کی دکانوں سے ذبح کرواکے گوشت گھر لے جاتے ہیں ۔دیسی مرغی کا گوشت فارم کی مرغی کے مقابلے میں زیادہ غذائیت بخش ہوتا ہےلیکن اس کی قیمت فارم کی مرغی کے مقابلے میں دگنی ہوتی ہے۔ زیادہ تر شہری دیسی چوزے خریدتے دکھائی دیتے ہیں جو یخنی اور سوپ کی تیاری کے لیے خریدے جاتے ہیں۔ بازار میں بطخیں اور خرگوش بھی فروخت کیے جاتے ہیں۔
پرندوں کے بازار میں لکڑی اور جالیوں سے بنے پنجرے اور مٹی سے بنے پرندوں کے گھر بھی فروخت کیے جاتے ہیں اس کے علاوہ پلاسٹک اور مٹی سے بنے ہوئے دانے اور پانی کے برتن بھی بڑے پیمانے پر فروخت کیے جاتے ہیں۔
مٹی کے گھروں کی فروخت سے کمہاروں کے معدوم ہوچکے پیشہ کو سپورٹ ملتی ہے پرندوں کے بازار میں کھانے پینے کی مختلف اشیا کے 100سے زائد پتھارے اور اسٹال لگائے جاتے ہیں اس کے علاوہ نیٹ (جالی) سے بنے ہوئے چھوٹے جال، پرندوں کے پیروں میں پہنائی جانے والی سجاوٹ اور شناخت کے رنگ چھلوں کے علاوہ سجاوٹ کا سامان بھی فروخت کیا جاتا ہے۔