ٹائیگرفورس کے کارنامے

ٹائیگر ایک ایسا جانور ہوتا ہے جو اپنی چستی، تیز رفتاری اور بہادری کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔


 اس کے علاوہ اس کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ ہمارے وزیر اعظم کا خاص پسندیدہ جانور ہے۔ کرکٹ کے دنوں میں92 کے ورلڈ کپ میں جب ان کی ٹیم کا مورال ڈاؤن تھا تب انہوں نے اپنے کھلاڑیوں کو کارنر ٹائیگرز کا لقب دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ پھر شوکت خانم کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے بھی خان صاحب نے اپنے رضاکاروں کو ٹائیگرز کا نام دیا جو گھر گھر جا کر چندہ جمع کرتے تھے۔

پچھلے4، 5 مہینوں سے جب تمام دنیا کی حکومتیں کورونا جیسی وبا سے لڑنے کے لیے اپنے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں تھیں، تب سوال یہ تھا کہ پاکستان جیسا ملک، جہاں صحت کا نظام اس قدر کمزور ہے، اس وبا کا مقابلہ کیسے کرے گا؟ ایسی مشکل گھڑی میں جب تمام نظریں عمران خان پر تھیں تب انہوں نے ایک دفع پھر اپنے ٹائیگرز کو للکارا، کورونا ٹائیگر فورس کا نام سنتے ہی پوری عوام میں جیسے خوشی کی لہر دوڑ گئی ان کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ اب کورونا کی ایسی کی تیسی ہو جائے گی۔ لاک ڈاؤن کے اثرات سے بچنے کے لیے دس لاکھ لوگوں پرمشتمل یہ فوج تیار کی گئی جس کا کام لاک ڈاؤن کے نتیجے متاثر ہونے والے علاقوں کی نشاندہی اور ان کی مدد کرنا تھا۔ 

بس پھر کیا تھا یہ حکومتی ٹائیگرز دن رات اس کام میں مگن گئے۔ گھر گھر جا کر غریب عوام کو راشن پہنچایا، اس بات کو یقینی بنایا کہ کہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کوئ خاندان بھوکا نہ رہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جس طرح سے ٹائیگر تیز رفتاری لیکن خاموشی سے اپنے شکار کا تعاقب کرتا ہے اسی طرح اِن حکومتی ٹائیگرز نے گلی گلی جا کر ان لوگوں کو ڈھونڈ نکالا جو لاک ڈاؤن کے نتیجے میں اپنی روزی روٹی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور ان کی مدد کی۔

 یہ ہر گز نہ سمجھیے گا کہ یہ مدد سماجی اداروں یا عام عوام نے کی بلکہ یہ حکومتی ٹائیگرز اس مشکل وقت میں مسیحا بن کر سامنے آئے۔ اب اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ کیوں یہ آپ کو کبھی نظر نہیں آئے تو یہاں یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ یہ فورس سلیمانی ٹوپی پہنے ہوئے ہے جو آپ کو اور ہمیں نظر آئے بغیر کورونا کو اس ملک سے بھگانے کا کام کر رہی ہے۔

اب جب کہ تمام ملک میں لاک ڈاؤن ختم ہو چکا ہے اور ساری دنیا میں کورونا کے ساتھ زندگی گزارنے کے طریقے ڈھونڈے جا رہے ہیں، ایسے بحران میں کورونا ٹائیگر فورس سے امید لگانے میں ہی عقلمندی تھی۔ اس دفعہ لوگوں کو ایس او پیز کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے طریقے بتانا اور کورونا وائرس سے آگاہی کا کام بھی ان کے سپرد ہی کیا گیا ہے۔ بازاروں، کارخانوں، مساجد میں آپ سب دیکھ ہی سکتے ہوں گے کہ کس طرح سے اس فورس کے جوان ایک ٹائیگر کی طرح بڑی بہادری اور مکمل خاموشی سے عوام کو ایس او پیز سے آگاہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ وہ تنگ نظر لوگ جو وزیر اعظم کے غیر کسی حکمت عملی کے مساجد کھولنے کے فیصلے پر تنقید کرتے رہے اب یہ جان گئے ہوں گے کہ یہ فیصلہ بھی ٹائیگرز کے سہارے ہی لیا گیا تھا۔ 

پاکستانی عوام کو پورا یقین ہے کہ اگر یہ نہ ہوتے تو ہمارے بازار کھچا کھچ بھرے ہوتے، لوگوں نے ماسک نہ پہنے ہوتے، مساجد اور بسوں میں لوگوں نے فاصلے کا خیال نہ رکھا ہوتا۔ یہاں تک کہ ہم تمام دنیا میں ایس اؤ پیز کو دل و جان سے فالو کرنے والی ایک مثالی قوم بن کے ابھرے ہیں اور اس کا تمغہ ون اینڈ اونلی ٹائیگر فورس کے سر ہے۔ وہ حاسد اور تنگ نظر لوگ جو یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ ٹائیگرز وزیراعظم کو تو ماسک پہنا نہیں سکے وہ یہ نہیں جانتے کہ خان صاحب ان سب چیزوں سے بالاتر ہیں۔ وہ ایسے سپر ہیرو ہیں جن سے کورونا خود دور بھاگتا ہے۔

وہ لوگ جو اس بات سے نالاں ہیں کہ ایسے بحرانی حالات میں حکومت کی کوئی واضح پالیسی سامنے کیوں نہیں آتی، وہ یہ جان لیں کہ جب دنیا پوچھے گی کہ اس خطر ناک وبا سے لڑنے کے لیے ہمارے پاس تو بہترین ہیلتھ کا نظام ہے، ٹریسسنگ اور ٹیسٹنگ کی سہولیات ہیں لیکن تمہارے پاس کیا ہے؟ تو گبھرانا نہیں ہے کیوں کہ ہمارے پاس ٹائیگر فورس ہے۔

آج عوام جو کہ لاک ڈاؤن، سمارٹ لاک ڈاؤن اور ہرڈ امیونیٹی جیسے جھمیلوں میں خود کو کنفیوزڈ محسوس کر رہی ہے اب یہ تسلی کر لیں کہ ٹائیگر فورس ایک دفع پھر میدان میں اتر آئی ہے اور اب پاکستان ان کے حوالے ہے۔ کورونا سے اس قدر کامیابی کے ساتھ لڑنے کے بعد وزیر اعظم نے ان پر دوسری ذمہ داریاں بھی ڈال دی ہیں۔ اب یہ شیر ماحولیاتی تبدیلیوں اور ٹڈی دَل کے نقصانات سے بھی لڑیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ بقول مراد سعید جس طرح نیویارک نے ہم سے متاثر ہو کر سمارٹ لاک ڈاؤن کا قدم اٹھایا اسی طرح نیویارک سمیت باقی دنیا بھی کب ہماری ٹائیگر فورس سے متاثر ہوتی ہے۔

گزارش صرف اتنی ہے کہ اگر حکومت کے یہ کارندے آپ کو کبھی نظر آئیں تو ضرور آگاہ کریں تا کہ ہم بھی ان کو دیکھنے اور ملنے کی سعادت حاصل کر سکیں۔