چینی لڑاکا طیارے تائیوان کی فضائی حدود میں گھس گئے

خلاف ورزی کرنے پر تائیوان کی جانب سے فوری جوابی کارروائی کی گئی



تائیوان چینی لڑاکا طیارے تائیوان کی فضائی حدود میں گھس گئے۔خلاف ورزی کرنے پر تائیوان کی جانب سے فوری جوابی کارروائی کی گئی۔تفصیلات کے مطابق تائیوان نے اپنی سب سے بڑی سالانہ براہ راست فائر ملٹری ڈرل کے منصوبوں کے اعلان کے فورا بعد ہی کہا کہ چینی لڑاکا طیارے گزشتہ روز تائیوان کی فضائی حدود میں مختصر دورانیے کے لیے داخل ہوئے۔

جس نے جزیرے کو فوری کاروائی پر مجبور کر دیا۔تائیوان کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس نے انتباہات نشر کئے اور جزیرے کے جنوب مغرب میں متعدد چینی ایس 30 جنگجوؤں کو منتشر کرنے کے لیے فوری ردعمل ظاہر کیا۔اس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فوج تائیوان آبنائے کے اردگرد سمندری اور فضائی حالات پر پوری طرح سے نگرانی کر رہی ہے اور ہماری علاقائی سلامتی کے دفاع کے لئے فعال جوابی اقدامات کیے۔

دوسری جانب آسٹریلیا نے تائیوان کے عالمی ادارہِ صحت کا رکن بننے کی حمایت کی تائید کر دی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کیمطابق آسٹریلیا روایتی طور پر تائیوان کے لیے آبزرور درجے کی حمایت کرتا رہا ہے اور موجودہ اعلان اس ہفتے تائیوان کے وزیرِ صحت کی جانب سے کال پر ردِعمل کے طور پر سامنے آیا ۔واضح رہے کہ آسٹریلیا اور چین کے درمیان اس وقت الفاظ کی شدید جنگ چل رہی ہے۔

آسٹریلیا عالمی سطح پر ایک تفتیش کا مطالبہ کررہا ہے کہ یہ وائرس کیسے پھیلا اور اس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔تائیوان کی وزارت خارجہ نے عالمی ادارہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کوورنا وائرس کی وبا کے دوران چین کے کنٹرول کو ختم کردیں۔چین کے بجائے صرف تائیوان کی جمہوری طور پر منتخب حکومت ہی عالمی سطح پر اپنے عوام کی نمائندگی کر سکتی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تائیوان کی وزارت خارجہ کی ترجمان جوآن او کا کہنا تھا کہ 1971 کا فیصلہ جس کے تحت چین نے تائپے سے اقوام متحدہ کی چین کی نشست سنبھالی، نے صرف چین کی نمائندگی کے مسئلے کو حل کیا، نہ کہ تائیوان کے مسئلے کو۔ اور اس فیصلے میں چین کو بین الاقوامی سطح پر تائیوان کی نمائندگی کا اختیار نہیں دیا کیا گیا۔