پاکستانی طالب علموں نے 3 گھنٹے میں مکان تیارکرڈالا

پاکستانی طالبعلموں کا بنایا ہوا گھر جسے صرف تین گھنٹے میں ڈھائی لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی طالبعلموں کا بنایا ہوا گھر جسے صرف تین گھنٹے میں ڈھائی لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
فوٹو: بشکریہ ٹیم ماڈیولس ٹیک

پاکستانی طالبعلموں کا بنایا ہوا گھر جسے صرف تین گھنٹے میں ڈھائی لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ 

 کراچی: پاکستان کے تین طالبعلموں نے بے گھر افراد کی مدد کے جذبے کے تحت دن رات محنت کر کے ایسا قابل رہائش مکان تیار کر لیا ہے جس کی قیمت صرف ڈھائی لاکھ روپے ہے اور اسے چند گھنٹوں میں تعمیر کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں گھر بنانا انتہائی کٹھن مرحلہ ہوتا ہے اور اس میں لاکھوں روپے مالیت کے ساتھ کئی مہینے بھی صرف ہو جاتے ہیں جب کہ غریب افراد کے لئے تو مکان کی تعمیر میں سال یا اس سے بھی کچھ زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے لیکن این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں سوِل انجینئرنگ سے وابستہ تین طالبعلموں نبیل صدیقی، یاسین خالد اور محمد ثاقب نے اس کا ایک دلچسپ اور انتہائی آسان حل تلاش کر لیا ہے۔

این ای ڈی کے تینوں طالبعلم پاکستان میں دہشتگردی سے متاثرہ افراد اور جنگ زدہ شام میں مہاجرین کے لیے فکرمند رہتے تھے اور اسی جذبے کے تحت اپنے فائنل ایئر پروجیکٹ کے طور پر انہوں نے کم خرچ اور فوری مکان تیار ہونے والا ایسا مکان تیار کیا جسے عام گھروں کی طرح بنایا اور توڑا جا سکتا ہے اور اسے با آسانی ایک سے دوسری جگہ پر منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان نوجوانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک مکمل گھر ہے جو 10 برس تک قائم رہ سکتا ہے۔

خالد کے مطابق ہم نے والدین سے پیسے لیے، اپنی اشیا فروخت کیں اور جیب خرچ کے پیسے بچا کر پروجیکٹ کا تعمیراتی سامان خریدا، اس کے بعد ایک دوست کے گھر کے عقبی (بیک یارڈ) لان میں کام شروع کر دیا، ابتدا میں خطیر رقم سے غلط مٹیریل آ گیا لیکن باہمت ٹیم نے اپنی غلطیوں سے سیکھا اور اس پر کام کرنے والے مزدوربھی نہیں جانتے تھے کہ آخر کیا بنانا ہے۔

اس کے بعد یہ منصوبہ کراچی میں واقع ایک ٹیکنالوجی انکیوبیٹر ادارے کو پیش کیا گیا جہاں خوش قسمتی سے اس پروجیکٹ کو منظور کرلیا گیا جس کے نتیجے میں طالبعلموں نے موڈیولس ٹیک نامی کمپنی قائم کی اور مختلف اداروں سے رابطے شروع کر دیئے۔

نیسٹ انکیوبیٹر پر رہنمائی سے معلوم ہوا کہ فوری طور پر تیار ہونے والے اس گھر کو مزدور کالونی، سیاحتی لاجز، فوجی کیمپ، کلینک، اسکول اور لوگوں کو فوری پناہ دینے کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک مکمل گھر ہے نہ کہ کوئی عارضی پناہ گاہ ہے۔