کورونا وائرس: آکسی میٹر کیا ہے، اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟

کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں میں جہاں بہت سی علامات واضح ہو جاتی ہیں وہیں خون میں آکسیجن کی کمی ایک ایسی علامت ہے جس کا انہیں یا تو علم ہوتا یا انہیں اس وقت اس کا احساس ہوتا ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کی علامات ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ شخص کے خون میں موجود آکسیجن کی مقدار اچانک کم ہوجاتی ہے اور اسے اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔

اسی لیے اسے جانچنے کے لیے آکسی میٹر ہو ہونا مریض کو تشویشناک حالت میں پہنچنے سے بچا سکتا ہے۔

خون میں موجود آکسیجن کی معتدل مقدار کیا ہے؟

کورونا وبا کے دوران ہمیں یہ بات جاننا بے حد ضروری ہے کہ ایک عام شخص کے خون میں موجود آکسیجن کی معتدل مقدار کیا ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خون میں موجود آکسیجن کی معتدل مقدار 95 سے 100 کے درمیان ہوتی ہے، اگر آپ کے خون کی آکسیجن کی مقدار 92 سے کم ہوجائے تو آپ کو فوراً آکسیجن کی ضرورت ہے۔

علاوہ ازیں ماہرین کی جانب سے یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کو صرف اور صرف آکسی میٹر پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں سب سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرکے ان کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔