وائٹ ہائوس کے ترجمان شان اسپائیسر نے کہا کہ امریکا ترکی ریفرنڈم پر عالمی مبصرین کے تحفظات کو دیکھ رہا ہے اور اس حوالے سےعالمی مبصرین کی حتمی رپورٹ کاانتظارہے ۔
جرمنی کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ریفرنڈم میں بڑے کم مارجن سے کامیابی کے بعد صدر اردوان پر بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے کیونکہ اس ریفرنڈم کے نتیجے میں ترک قوم میں تقسیم واضح نظر آتی ہے ۔
صدر رجب طیب اردوان نے عالمی ممالک کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے عالمی مبصرین سے کہا کہ وہ اپنی اوقات میں رہیں، ریفرنڈم سے متعلق ان کے بیانات ناقابل قبول ہیں ۔
دوسری جانب ترکی کے شہر استنبول میں ریفرنڈم کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرےمیں شریک ہزاروں افراد صدر کو حاصل وسیع اختیارات کے خلاف احتجاج کررہے تھے ۔
ادھر ترکی میں پہلے سے نافذ ایمرجنسی میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی گئی ہے