دنیا کا بلند ترین برفیلا پارک

گلگت بلتستان میں واقع کے ٹو کا پہاڑ ماونٹ ایورسٹ کے بعد دوسری بلند ترین چوٹی ہے جو پاکستان میں واقع ہے، سونے پر سہاگہ کہ دُنیا کا لمبا ترین

 


انہی غیر ملکی سیاحوں میں اٹلی کے سیاح ان برفانی چوٹیوں میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ اٹالین یہاں آ کر نہ صرف ان خوبصورت علاقوں کی سیر کرتے ہیں بلکہ وہ ان چوٹیوں پر تحقیق کر کے بین الاقوامی یونیورسٹیز میں ریسرچ پیپرز بھی شائع کرواتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اٹلی کی حکومت نے پاکستان میں واقع اس جنت کو انسانوں کی پیدا کی گئی ماحولیاتی تباہی سے بچانے کے لئے قدم اُٹھایا اور اقوام متحدہ سے ملکر کے ٹو کو قراقرم پارک میں بدلنے کا فیصلہ کر لیا۔ اسی سلسلے میں چند روز پہلے وفاقی دارلحکومت میں معاہدے پر دستخط بھی ہو گئے جس میں وزیر ماحولیاتی تبدیلی، زاہد حامد اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلی احسن نے شرکت کی اور بین الاقوامی نمائندوں کو یہ یقین دلایا کہ وہ اس پراجیکٹ میں ان سے بھر پور تعاون کرینگے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ان جنت نما چٹانوں کو بچانے کے لئے یہ ایک بہت اچھا قدم ہے لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری حکومت کہاں سو رہی ہے کہ ہمارے ملک کی جنت نظیر وادیوں اور علاقوں کو محفوظ بنانے کے لئے غیر ملکی اقوام کو خیال آ گیا لیکن ہماری قوم ابھی بھی سو رہی ہے۔ یہاں تک کے پاکستان کو ملنے والے میٹھے پانی کا ذریعہ یہی گلشیئرز ہیں، مون سون میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سبب بھی یہی گلشئیرز ہیں۔ اگر یہ یوں ہی پگھلتے رہے تو ہماری آنے والی نسلیں نہ صرف قدرتی حسن سے محروم ہونگی بلکہ پانی کی کمی اور تباہیاں بھی انکا مقدر بنیں گی کیونکہ پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے نہ ہی ہمارے پاس ڈیمز ہیں نہ ہی سیلاب سے بچاو کے لئے کوئی مناسب پلان جو ہمیں ان برفانی حملوں سے بچا سکیں۔ ایسے میں بس یہی دعا کی جا سکتی ہے کہ اس برفیلے پارک کو دیکھ کے ہی اللہ ہمارے حکمرانوں کو جگا دے۔