آئی آئی چندریگر روڈ پر واقعہ صائمہ ٹاورز کی بالائی منزلوں پر لگی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔
اطلاعات کے مطابق آگ صبح 4 بجے کے وقت عمارت کی 17ویں منزل پر لگی جبکہ فائر بریگیڈ کی 5 گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی:
ریجنٹ پلازہ میں آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 12 ہوگئی
آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کا باؤزر بھی پہنچا دیا گیا، جب کہ اسنارکل کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔
فائربریگیڈ حکام کے مطابق آگ کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور آگ کا پھیلاؤ روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
فائرفائٹرز کا کہنا ہے کہ آگ نے 15 ہویں منزل کو بھی لپیٹ میں لے لیا، عمارت میں 4 افراد پھنسے ہوئے تھے جن میں سے 3 کو پہلے اور ایک کو کچھ دیر بعد ریکسیو کرلیا گیا۔
فائر بریگیڈ نے عمارت میں لگی آگ کو تیسرے درجے کی آگ قرار دیا ہے۔
چیف فائر افسر کا کہنا تھا کہ آگ 17ویں منزل پر ایئر کنڈیشنر میں لگی تھی جبکہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عمارت میں آگ بجھانے کا کوئی موثر نظام نہیں تھا۔
مزید پڑھیں:
کراچی سانحہ: ہلاکتوں کی تعداد 289 ہو گئی
اب تک آگ کی وجہ سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم اس کثیرالمنزلہ عمارت میں قائم مختلف نجی اداروں کے دفاتر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سندھ حکومت جانوں سے کھیل رہی ہے، وسیم اختر
میئر کراچی وسیم اختر نے بھی متاثرہ عمارت کا دورہ کیا اور اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت سندھ پر شدید تنقید کی۔
وسیم اختر نے حکومت سندھ پر الزام عائد کیا کہ وہ عوام کی جانوں سے کھیل رہی ہے جبکہ کم وسائل کے باوجود فائر بریگیڈ کا عملہ اپنی جانوں پر کھیل کر لوگوں کی جانیں بچارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے پاس فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، شہری حکومت کے پاس اسنارکل خریدنے کے بھی پیسے موجود نہیں، وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ سندھ کو اس سلسلے میں لکھ کر دیا جاچکا ہے۔
وسیم اختر نے کہا کہ ماضی میں جو اسنارکل خریدے گئے ان میں کرپشن کے کیسز نیب میں چل رہے ہیں، فائر بریگیڈ کے پاس ایسی کوئی اسنارکل موجود نہیں جو 17 ہویں منزل تک پہنچ سکے۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ ایک ایسے شہر کی یہ حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے جو نہ صرف سندھ اور پاکستان کو چلارہا ہے بلکہ دبئی کی پراپرٹیز بھی یہی شہر بنارہا ہے۔
وسیم اختر نے کہا کہ ’وزیراعلیٰ سے جب اختیارات کی بات کی جائے تو وہ کہتے ہیں جو محکمے آپ کے پاس ہیں پہلے انہیں ٹھیک کریں لیکن سندھ حکومت نے گزشتہ 8 برسوں میں محکموں کی وہ حالت کردی ہے کہ انہیں اتنی جلدی ٹھیک کرنا ممکن نہیں‘۔ انہوں نے ریسکیو اہلکاروں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال میں فائر بریگیڈ کا کام کرنا کسی عجوبے سے کم نہیں۔
میئر نے کہا کہ جس عمارت میں آگ لگی اس میں اوپر جانے اور واپس آنے کے لیے ایک ہی راستہ موجود ہے جبکہ عمارت میں فائر ایگزٹ موجود نہیں ہے، سندھ حکومت اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایسی عمارتوں کو اجازت نامے دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فائر بریگیڈ کے پاس جو سامان موجود ہے اس سے دس گنا مزید سامان کی ضرورت ہے، اہلکاروں کے پاس وردی اور ہیلمٹ تک نہیں ہے اور وہ اپنی جانوں پر کھیل کر شہریوں کو بچارہے ہیں۔
خیال رہے کہ کچھ سالوں قبل کراچی کی ہی ایک عمارت میں آگ لگ گئی تھی اور ایک نوجوان آگ سے بچنے کے لیے کھڑکی سے لٹک گیا تھا تاہم کافی دیر تک لٹکے رہنے کے بعد وہ نیچے گرگیا اور اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔