جہاں ہم پریس کی آزادی کی بات کرتے ہیں، وہیں ہمارے ملک میں کسی بھی آزادنہ رپورٹ شائع کرنے یا اس پر بات کرنے سے پہلے بہت سے عوامل سے گزرنا پڑتا ہے، دہشت گردوں، عسکری ونگز اور ایجنسیز کی جانب سے ہونے والے رویوں اور ایکشن کے بعد پاکستان کو صحافیوں کیلئے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان میں 15 سال میں پاکستان میں 117 صحافیوں کو قتل کیا گیا، تاہم اس میں سے صرف تین کارروائیوں کے مقدمے درج کیے گئے، جو ایک بڑی تعداد ہے۔
صحافیوں کے حقوق کےتحفظ کے لیے قانون سازی کامطالبہ کئی سال سے کیا جا رہا ہے اور اس کے وعدے بھی مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دنیا بھر میں صحافیوں نے حقائق کی تشہیر ، خبر کے حصول اور دوران ڈیوٹی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں ۔ صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 110 صحافی فرائض کی ادائیگی کے دوران مارے گئے ۔ شام اور عراق صحافیوں کے لیے خطرناک ترین جبکہ ایشیا میں بھارت صحافیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوا۔ دنیا کے کئی ممالک میں آزادی صحافت پر مکمل جبکہ متعدد ممالک میں جزوی پابندی عائد رہی۔ سماء