جے آئی ٹی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے تھوڑے گھبرائے، جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف سے 14سوالات کئے۔
جن میں سوال نمبر 1 میں پوچھا گیا کہ ’آپ نے تقاریر میں کہا کہ عزیز یہ گلف اسٹیل کا ریکارڈ دستیاب ہے لیکن دیا نہیں ؟
وزیراعظم نے جواب دیا کہ ’ یقین نہیں شاید اسپیکر کو دیا ہو‘۔
سوال نمبر6۔ حسین ان اپارٹمنٹس کی ملکیت ظاہر کرتا رہا، مگر یہاں دہائیوں سے حسن رہ رہا ہے، کیا عجیب نہیں؟
وزیراعظم نے جواب دیا کہ’بھائیوں کے درمیان یہ غیر عمومی نہیں‘۔
سوال نمبر7۔ کیا حسین و مریم کے درمیان ٹرسٹ ڈیڈ کے بارے میں آپ کو علم ہے؟
وزیراعظم نے جواب دیا کہ’میرے علم میں ٹرسٹ ڈیڈ کی کوئی بات نہیں‘۔
سوال نمبر 8۔ کیا آپ نیشنل بینک کے سعید احمد کو جانتے ہیں کیا کبھی ان کے ساتھ کوئی کاروبار کیا ؟
وزیراعظم نے جواب دیا کہ’میں سعید احمد کو لمبے عرصے سے جانتا ہوں لیکن کوئی کاروبار نہیں کیا‘۔
سوال نمبر9۔ کیا آپ قاضی خاندان کو جانتے ہیں؟
وزیراعظم نے جواب دیا کہ’جی میں انہیں نہیں جانتا،میں بہت سے لوگوں سے ملتا ہوں سب کو یاد نہیں رکھ سکتا۔
سوال نمبر12۔ کیا آپ نے کبھی خاندان کے کسی فرد کو بیرون ملک رقم بھیجی؟
وزیراعظم نے جواب دیا کہ’نہیں میں نے کبھی نہیں بھیجی‘۔
سوال نمبر 13۔ ہل میٹل سے حاصل رقم کا کوئی حصہ سیاسی مقاصد کےلیے استعمال کیا؟
وزیراعظم نے جواب دیا کہ’نہیں ایسا نہیں کیا، لیکن اگر میں نے ایسا کیا تو یہ جرم ہے‘۔
سوال نمبر14۔ کیا یہ غیر ملکی فنڈنگ کا معاملہ نہیں؟وزیر اعظم نواز شریف نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔
جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق نواز شریف کو یہ معلوم نہیں تھا کہ فلیٹس بیرئیر سرٹیفکیٹ کیسے ٹرانسفر کیے،وہ تقریروں میں قطری سرمایہ کاری کا ذکر کرنے پر بھی مطمئن نہ کرسکے۔
رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے اپنے ہاتھ میں انکم ویلتھ ٹیکس ریٹرن لائے، انہوں نے 2001-03ء میں چوہدری شوگر مل کے اکاؤنٹ نیب کو 110 ملین کی ادائیگی کا جواب نہیں دیا۔
جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے حسین نواز اور مریم نواز کے درمیان ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کی ٹرسٹ ڈیڈ سے لا علمی کا اظہار کیا، ان کے بیان کے کچھ حصے حقائق پر مبنی نہیں تھے