شاہد خاقان عباسی نے منتخب ہونے کے بعد صدر پاکستان ممنون حسین کی موجودگی میں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا۔
اس سے قبل منگل کو قومی اسمبلی میں ہونے والے اجلاس کے دوران ہونے والی ووٹنگ میں انھوں نے 221 ووٹ حاصل کیے تھے۔
٭’45 دن میں 45 مہینوں کا کام کروں گا‘
٭دھیمے مزاج اور صلح جُو طبیعت کے مالک
70 برس پہلے: مسلم لیگیوں کو جناح کا پیغام
ان کے قریب ترین حریف پیپلز پارٹی کے نوید قمر رہے جنھوں نے 47 ووٹ لیے۔
تحریکِ انصاف کے امیدوار شیخ رشید نے 33 ووٹ حاصل کیے جب کہ جماعت اسلامی کے امیدوار حافظ طارق اللہ نے چار ووٹ لیے۔
اس سے قبل جب اجلاس شروع ہوا تو سپیکر نے اراکین سے اپنی پسند کے امیدوار کے لیے مقرر کردہ لابی میں جمع ہونے کو کہا۔
جس کے بعد ان ارکان کی گنتی کی گئی اور پھر سپیکر نے نتیجے کا اعلان کیا۔
قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر تین بجے شروع ہوا۔
خیال رہے کہ اجلاس سے قبل حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ایم کیو ایم نے مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا تھا جبکہ دوسری جانب حزب مخالف کی جماعتیں اپنا متفقہ امیدوار لانے میں ناکام رہی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عوامی مسلم لیگ کے سروراہ شیخ رشید کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے
حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اس وقت قومی اسمبلی میں 187نشستیں ہیں جبکہ حکمراں اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں بھی شاہد خاقان عباسی کو ہی ووٹ دیں گے۔ حکمراں اتحاد میں جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ قابل ذکر ہے۔
حکمراں جماعت کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا انتخاب جیتنے کے بعد اُن کی جماعت کی توجہ اُن منصوبوں پر ہو گی جو ابھی مکمل نہیں ہوئے۔
اس کے علاوہ ان کی جانب سے اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ انہی پالیسیوں پر عمل درآمد کیا جائے گا جو پالیسیاں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور سے چلی آرہی ہیں۔