اے ٹی ایم استعمال کرنے والے ایک بار ضرور پڑھیں

سائبر لٹیرے اے ٹی ایم میں تبدیلی کرکے بھی آپ کو قیمتی سرمائے سے محروم کرسکتے ہیں۔

خفیہ کیمرا:

 

اسکمر کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹا سا خفیہ کیمرا بھی اے ٹی ایم میں کسی ایسی جگہ نصب ہوسکتا ہے جہاں سے اے ٹی ایم کی پیڈ صاف دیکھا جاسکتا ہو۔ اس کا مقصد دراصل صارف کے اینٹر کیے ہوئے پن کوڈ سے واقفیت حاصل کرنا ہوتا ہے جبکہ یہ خفیہ کیمرا اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ اسے کی پیڈ کے قریب یا اے ٹی ایم اسکرین کے اوپر کسی مقام پر نصب کیا جاسکتا ہے۔

سائبر لٹیرے آپ کی یہ قیمتی معلومات چوری کرکے نقلی اے ٹی ایم کارڈ بھی بناسکتے ہیں یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی اور طریقہ استعمال کرتے ہوئے، آپ کی لاعلمی میں آپ کو اچھی خاصی رقم سے محروم بھی کردیں۔

اے ٹی ایم میں کی گئی ان مکارانہ تبدیلیوں کا پتا چلانا اگرچہ بہت مشکل ہوتا ہے لیکن تھوڑی سی توجہ اور احتیاط کرکے آپ خود بھی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اس میں کچھ گڑبڑ کی گئی ہے یا نہیں۔ اے ٹی ایم کے ساتھ ہونے والی چھیڑ چھاڑ کی کچھ نمایاں علامت ملاحظہ کیجیے:

اے ٹی ایم میں کچھ ایسی چیزیں بھی اضافی طور پر دکھائی دے رہی ہوں جن کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ میں نہ آتی ہو۔

اے ٹی ایم کارڈ سلاٹ جزوی طور پر اکھڑتی ہوئی محسوس ہو یا پھر وہ ناہموار ہو جبکہ ایسا ہونے کی کوئی ظاہری وجہ بھی موجود نہ ہو۔

اے ٹی ایم فراڈ سے بچنے کےلیے اضافی اقدامات یقیناً آپ کو زیادہ محفوظ بھی بنائیں گے:

پن کوڈ اینٹر کرتے وقت اپنی ایک ہتھیلی سے کی پیڈ کے اوپر پھیلادیجیے تاکہ اگر کوئی خفیہ کیمرہ نصب بھی ہو تو اسے یہ دکھائی نہ دے سکے کہ آپ کونسا پاس ورڈ استعمال کرتے ہوئے اے ٹی ایے سے رقم نکلوا رہے ہیں۔

کوشش کیجیے کہ مشہور بینکوں کی نصب کی ہوئی قابلِ بھروسہ اے ٹی اے ہی سے رقم نکلوائیں کیونکہ بعض مرتبہ پوری کی پوری جعلی اے ٹیم نصب کرکے بھی صارفین کے ساتھ فراڈ کیا جاتا ہے۔ اگر کسی نامعلوم علاقے میں ہوں تو بہتر ہے کہ وہاں کے مقامی افراد سے پوچھ کر کسی قابلِ بھروسہ اے ٹی ایم کا رُخ کریں۔

اس کے علاوہ آپ اے ٹی ایم کارڈ کا استعمال محدود کرکے، ایک وقت میں کم رقم نکلوا کر اور رقم کی آن لائن منتقلی کی حدود کم کرکے بھی اپنی رقم کا تحفظ یقینی بنا سکتے ہیں۔