کیا آپ کو معلوم ہے کہ چوروں کو اب آپ کی گاڑی چرانے کے لیے چابی کی ضرورت نہیں ہے۔ بس جہاں آپ نے احتیاط نہ کی وہیں وہ آپ کی گاڑی لے اڑیں گے۔
بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟
یہ اس لیے ممکن ہے کہ آج کل بننے والی گاڑیوں کی چابیوں سے وائرلیس سگلنل نکلتے ہیں اور چوروں کو ان سگنلز کو پکڑنے کا انتظار رہتا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چور، بازار سے اصلی وائرلیس چابی خرید کر اسے استعمال کر کے گاڑی کھولنے والے کوڈ کی نقل حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کوڈ سے ہر گاڑی کو تو نہیں کھولا جا سکتا لیکن کچھ گاڑیوں تک ضرور رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
کیا چوروں کو روکا جا سکتا ہے؟
اس کا ایک آسان سا طریقہ ہے اور وہ یہ کہ آپ اپنی گاڑی کی چابی کو ایلومینیئم فوئل یا ایلومینیم کی پنی میں لپیٹ کر رکھیں۔
وہ ایسا کیسے کیا جا سکتا ہے؟
سائبر سکیورٹی سے وابستہ کئی ماہرین متفق ہیں کہ اگرچہ یہ سکہ بند طریقہ نہیں ہے لیکن بہت آسان اور سستا ضرور ہے۔
ایک اور طریقہ یہ ہے کہ چند ڈالرخرچیں اور آن لائن پر دستیاب فیراڈے بیگ خرید لیں۔ اس بیک میں بھی وہی غیر موصل خصوصیت ہیں جو ایلومینیئم کی پٹی میں پائے جاتے ہیں اور یہ ان 'اطلاعات' کے خلاف ڈھال کا کام دیتی ہے جو چوروں کو گاڑی چرانے کے چاہیے ہوتی ہیں۔
یہ سارا کھیل برقی مقناطیسی لہروں کے ذریعے ایک سے دوسری جگہ اطلاعات پہنچانے کا ہے جیسے ریڈیو یا ٹیلی وژن کام کرتے ہیں۔