خیبرپختونخوا:تحریک انصاف6سیٹوں سے محروم

قومی اسمبلی کی 7 نشستوں کے ساتھ تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی 6 نشستیں چھوڑنا پڑیں گی جبکہ ایک نشست عوامی نیشنل پارٹی خالی کرے گی۔ مجموعی طور پر خیبر پختونخوا کی 10 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے جس پر تحریک انصاف کو ٹم ٹائم کا سامنا ہوگا۔

خیبر پختونخوامیں سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ایک قومی اور دو صوبائی اسمبلی کے حلقوں پی کے 61 اور پی کے 64 نوشہرہ، سابق صوبائی وزیر علی امین گنڈا پور ایک قومی اور ایک صوبائی حلقہ پی کے97 ڈیرہ اسماعیل خان، اسپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر ایک قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 44 صوابی، ڈاکٹر حیدرعلی نے ایک قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 3 سوات کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی بھی قومی کیساتھ صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 53 مردان سے کامیاب ہوئے ہیں۔ سابق صوبائی وزیر شاہ فرمان پشاور سے صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں پی کے 70 اور71 سے کامیاب ہوئے ہیں۔ سوات سے صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں پی کے 6 اور پی کے7 سے تحریک انصاف کے امجد علی نے کامیابی اپنے نام کی ہے۔

 پرویز خٹک، اسد قیصر، ڈاکٹر حیدر علی، علی امین گنڈا پور، امیر حیدر خان ہوتی کے وفاق میں جانے سے صوبائی اسمبلی کی  6 نشستیں خالی ہو جائیں گی جبکہ شاہ فرمان اور امجد علی کو دو دو حلقوں میں سے ایک ایک حلقہ کو چھوڑنا پڑے گا۔ پشاور سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 78 اور ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقہ پی کے 99 کے امیدواروں پر خود کش حملوں کے بعد ان حلقوں میں پہلے سے عام انتخابات منعقد نہیں ہوئے۔

مجموعی طور پر صوبائی اسمبلی کے 10 حلقوں پی کے 2 سوات، پی کے 6 یا7 سوات، پی کے 44 صوابی، پی کے 53 مردان، پی کے 61 اور64 نوشہرہ، پی کے 70 یا71 پشاور، پی کے 78 پشاور، پی کے 97 ڈیرہ اسماعیل خان اور پی کے 99 ڈیرہ اسماعیل خان میں ممکنہ طورپرضمنی انتخابات ہونگے۔