زینب قتل کیس۔۔۔

زینب قتل کیس،مجرم عمران کو 12 دفعہ سزائے موت

قصور میں زینب سمیت دیگر ننھی بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم عمران کو انسداد دہشتگردی کی عدالت نے بارہ بار سزائے موت اور ساٹھ لاکھ جرمانے کی سزا سنادی۔ مجرم پر سات سالہ نور فاطمہ، پانچ سالہ عائشہ اور آٹھ سالہ لائبہ سے زیادتی اور قتل کے مقدمات ہیں۔

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مجرم عمران کے خلاف تین بچیوں سے زیادتی اور قتل کے کیس کا فیصلہ سنایا۔ مجرم کو ساٹھ لاکھ جرمانہ اور تینوں مقدموں میں تیس، تیس لاکھ دیت بھی ادا کرنی ہوگی۔ عمران کو زینب سمیت چار بچیوں کیساتھ زیادتی پر سزا سنائی گئی۔

 

کیس کی سماعت کوٹ لکھپت جیل میں کی گئی، یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شیخ سجاد نے سنایا۔ ملزم کو 5سالہ عائشہ قتل کیس میں چار بارسزائے موت سنائی گئی ،جبکہ 20 لاکھ جرمانہ اور10 لاکھ روپے دیت دینے کاحکم دیا گیا ہے، 8سالہ لائبہ قتل کیس میں چار بارسزائے موت جبکہ 20 لاکھ جرمانہ اور10 لاکھ روپےدیت دینے کاحکم دیا،۔

 

سات سالہ نورفاطمہ قتل کیس میں بھی مجرم کو چار بارسزائے موت اور 20 لاکھ روپے جرمانہ اور10لاکھ روپے دیت دینے کاحکم دیا ہے، مجرم کے خلاف مزید3 بچیوں کے قتل کیس کا فیصلہ پیر کو سنایا جائیگا۔

 

یاد رہے کہ زیادتی کے بعد قتل کے اس مقدمہ میں موقع کا کوئی گواہ موجود نہیں تھا اور مجرم عمران علی کو پولیس نے فرانزک سائنس کی مدد لیتے ہوئے ڈی این اے کے نمونے میچ ہونے کے بعد ہی گرفتار کیا تھا۔

 

عدالت نے اس حوالے سے فیصلے میں لکھا کہ 'موقعے کا کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں تھا تاہم مضبوط سرکمسٹینشل ایویڈینس یا واقعاتی ثبوت ریکارڈ پر موجود ہے جس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ملزم عمران علی ہی نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔' اور یہ کہ استغاثہ نے ڈی این اے رپورٹ تشکیل دینے والوں کے ذریعے اس کو ثابت کیا۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی مدد سے سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل ہونے والی فوٹیج میں نظر آنے والے مجرم عمران علی کے چہرے کی تصاویر کو اس قدر بہتر بنایا گیا کہ ان کا مجرم کے چہرے سے میچ ہونا ثابت ہوا۔