جعلی بینک اکاونٹ کیس

پیسہ بلیک منی ثابت ہوا تو چھوڑیں گے نہیں،چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں 35 ارب کی منی لانڈرنگ کی رپورٹ پیش کر دی گئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار ہے کہ وہ لوگوں کی کرپشن پکڑے، عوام کا پیسہ ہضم نہیں کرنے دیں گے،جے آئی ٹی بنا کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیںگے،ملک میں ناپاک کام نہیں ہونے چاہئیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ پیر کے روز ہونے والی سماعت میں ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن اور سابق صدر آصف زرداری، فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔

 

سماعت کے آغاز پر فاروق ایچ نائیک نے استدعا کی کہ عدالت مقدمے کی پبلسٹی روکے، اس پر چیف جسٹس نے مکالمہ کیا کہ اتنی پبلسٹی تو ملے گی جتنی ہم دیں گے۔ فاروق نائیک نے کہاکہ ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کا شور ڈالا ہوا ہے، پہلے دیکھا جائے کیا سرزد ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تحقیقات ہوں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی اے کو معاملے کی انکوائری کااختیار نہیں؟۔

 

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ان اکاؤنٹس میں جو پیسہ ہے وہ بلیک منی کا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آسان الفاظ میں یہ پیسہ چوری کا ہے، حرام کا ناپاک پیسہ ہے، ہم اس پیسے کو ہضم کرنے نہیں دیں گے، اگر ثابت ہو گیا تو چھوڑیں گے نہیں۔

 

فاروق نائیک نے سوال کیا کہ اگر ثابت نا ہوا تو پھر کیا ہو گا؟ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ثابت نا ہو سکا تو آپ کے موکل کو دیانت داری کا سرٹیفکیٹ دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جن کے نام کیس میں آئے وہ انکوائری میں شامل ہوکر کلیئر کرائیں، ڈی جی ایف آئی اے نے کسی کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنوایا تو کارروائی کریں گے۔

 

وکیل جواب گزار فاروق نائیک نے مؤقف اپنایا کہ مقدمے میں بہت سے لوگ بدنام کیے جارہے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بشیر میمن اور ان کی ٹیم نے بلاوجہ کسی پر الزام لگایا تو پاکستان میں نہیں رہیں گے، ایف آئی اے کے غلط کام کو سپورٹ نہیں کریں گے۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے نے زرداری اور فریال کیخلاف پری پول دھاندلی کی، بشیر میمن صرف اندازے لگا رہے ہیں، اصل میں شکایت ایف آئی اے کے خلاف تھی، جن کے نام آئے ہیں وہ شامل تفتیش ہوں، شامل تفتیش ہو کر سب لوگ خود کو کلیئرکروائیں۔

 

ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عدالت کو بتایا اسٹیٹ بینک نے مشکوک بینک اکاؤنٹس کی رپورٹ جاری کی، جس کے مطابق 29 مشکو ک اکاؤنٹ تھے، طار ق سلطان کے 5 اکاؤنٹس تھے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا طارق سلطان نے انکار کر دیا ہے، اکاونٹ میرے نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر اومنی گروپ نشاندہی کر رہا ہے تو اکاؤنٹس جعلی کیسے ہیں۔ ڈی جی ایف آئی اے نے جواب دیا تمام کے تمام 29 اکاؤنٹس جعلی ہیں، 7 اکاؤنٹس میں منی لانڈرنگ کی گئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہمارے پاس لسٹ آنی چاہیئے اکاؤنٹس کس کس کے ہیں ؟ دیکھنا ہے کہ جعلی اکاؤنٹس سے کس کو فائد ہ ہوا ؟ اومنی گروپ کے مالک انور مجید اگلے ہفتے پیش ہوں۔ وکیل اومنی گروپ نے عدالت کو بتایا کہ انور مجید بیمار ہیں، ان کے بیٹے عبدالمجید ملک سے باہر ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا جب بھی بلایا جائے اسپتال چلے جاتے ہیں، سب باہر ہیں تو وکیل کس طرح ہائر کئے گئے، اومنی گروپ کی انتظامیہ کہاں ہے، انہوں نے عدالتی عملے کو وکالت نامے چیک کرنے کا حکم بھی دیا۔ چیف جسٹس نے کہا پولیس کو بلائیں ان وکیلوں کے خلاف مقدمہ درج کریں۔

 

اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ اومنی گروپ کے اکاوئنٹس سے رقم زرداری گروپ کو منتقل ہوئی۔ پیر کے روز ہونے والی سماعت میں جعلی اکاونٹ ہولڈر خاتون بھی پیش ہوئیں۔ عدالت کے روبرو خاتون کا کہنا تھا کہ میرا اکاؤنٹ بینک کے سینیرز نے کھلوایا، شام کے بعد افسران خود ٹرانزیکشنز کرتے تھے، میرے گھر پولیس آئی سارا دن ہراساں کیا گیا۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ چوری کامال کسی کو ہضم نہیں کرنے دیں گے، اگر رقم جائز ہوئی تو کلین چٹ دیں گے، جس پر خاتون نے عدالت کو بتایا کہ میرا کیا قصور ہے کہ رات تک پولیس میرے گھر رہتی ہے، چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کا یہ اقدام برداشت نہیں کروں گا، جو پولیس آپ کے گھر گئی تھی اسے جانتا ہوں، تھانے سے لوگ کس نے بھجوائے وہ بھی معلوم ہے۔

 

واضح رہے کہ ایف آئی اے بے نامی اکاؤنٹ سے منی لانڈرنگ کیس میں 32 افراد کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے، جس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور بھی شامل ہیں جب کہ اسی سلسلے میں گزشتہ دنوں نجی بینک کے سابق صدر حسین لوائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔