نیب کی درخواست پر زلفی بخاری اور فواد حسن فواد کا نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری کی آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کررہا ہے، تحقیقات کو مکمل ہونے تک نیب کی جانب سے زلفی بخاری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال کر بیرون ملک جانے سے روکنے کی سفارش کی گئی تھی۔
نیب کی درخواست پر وزارت داخلہ نے سید ذوالفقار عباس بخاری کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا ہے، زلفی بخاری کا نام نیب کی درخواست پر کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی منظوری کے بعد ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے، نگران وزیر داخلہ اعظم خان کی سربراہی میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے بھی منظوری دی تھی۔
وزارت داخلہ کی جانب سے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے معاملے کو زلفی بخاری نے انتقام قرار دے دیا۔ زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے میرے خلاف انتقامی کارروائی کا آغاز کیا تھا، حکومت ختم ہونے سے ایک دن قبل میرا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا، مجھے عمران خان کا ساتھ دینے پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ زلفی بخاری کا مزید کہنا تھا کہ میں نے نیب کے ساتھ ہر طرح سے تعاون کیا ہے، ہائی کورٹ کے حکم پر میرا نام بلیک لسٹ سے نکالا گیا، میں نے پوری الیکشن مہم کے دوران وقت یہاں گزارا ہے، حکومت کے اس اقدام کو ہر مناسب فورم پر چیلینج کروں گا۔
دوسری جانب سابق وزرائے اعظم نوازشریف اور شاہد خاقان عباسی کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کا نام بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کردیا گیا ہے۔
فواد حسن فواد کا نام بھی نیب کی درخواست پر ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے جس کی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے منظوری دی تھی۔
واضح رہے کہ نیب فواد حسن فواد کے خلاف آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کی تحقیقات کررہا ہے، جب کہ فواد حسن فواد کو 5 جولائی کو نیب لاہور نے بیان ریکارڈ کرانے کے بعد گرفتار کیا تھا۔