ہم ہارکےہی لائق تھےوراٹ کوہلی

آپ بیٹھ کر حالات کا رونا نہیں رو سکتے: وراٹ کوہلی

نڈین ٹیم کے ٹاپ آرڈر نے ابھی تک اپنی صلاحیت کا خاطر خواہ مظاہرہ نہیں کیا

انڈیا کے برعکس صرف 25 ٹیسٹ میچوں کا تجربہ رکھنے والے ووکس نے تنہا 137 رنز کی اننگز کھیلی۔ انڈیا کے بیٹسمین تجربے میں ان سے کہیں آگے ہیں۔

وراٹ کوہلی 68، مرلی وجے اور پجارا 59-59، رہانے 47 اور شیکھر دھون نے 31 ٹیسٹ میچز کھیل رکھے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کے قابل نہیں ہیں؟

کپتان وراٹ کوہلی کا کہنا ہے کہ ’آپ بیٹھ کر حالات کا رونا نہیں رو سکتے۔‘


سینیئر کھیل صحافی اياز میمن کا کہنا ہے کہ اس بات کا تجزیہ کیا جانا چاہیے کہ غلطی کہاں ہوئی ہے؟

انہوں نے کہا: ’ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ انڈین بیٹسمین کے پاس ٹیلنٹ نہیں ہے۔ دھون، پجارا، رہانے وغیرہ کے پاس صلاحتیں ہیں لیکن ان سب کے ناکام ہونے کے اسباب کا پتہ لگانا ضروری ہے۔‘

ایاز میمن جس غلطی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہیں وہ ٹیم کے انتخاب کی جانب تو نہیں۔

ایسا لگا کہ کرس ووکس نے انڈیا کو تنہا ہی شکست سے دو چار کیا۔ انھوں نے اپنی پہلی سنچری سکور کی اور اہم وکٹیں بھی حاصل کیں۔ انھیں مین آف دا میچ دیا گیا

37 ٹیسٹ میچز میں انڈیا کی کپتانی کرنے والے وراٹ کوہلی کو 21 میچوں میں کامیابی ملی ہے لیکن انگلینڈ میں مسلسل دو شکست نے ان کے سامنے بڑے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

ایاز میمن کا کہنا ہے کہ اب دباؤ کپتان پر آ گیا ہے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ درست ٹیم کا انتخاب ہو۔

جبکہ وراٹ کا کہنا ہے کہ ’ہم دو صفر سے پیچھے ہیں۔ ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ ہم مثبت سوچ رکھیں اور اسے دو ایک بنانے کی کوشش کریں۔‘

اس سے قبل انڈیا کے سابق کرکٹر سورو گنگولی نے کہا تھا کہ ’انڈیا کی بیٹنگ یونٹ میں لڑنے والے کردار کی کمی ہے۔