عارف علوی پاکستان کے 13 ویں صدر منتخب

تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی پاکستان کے 13 ویں صدر منتخب ہوگئے، اپوزیشن کے مولانا فضل الرحمان اور پیپلزپارٹی کے چوہدری اعتزاز احسن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی کو 353 ووٹ ملے، مولانا فضل الرحمان 185 اور چوہدری اعتزاز احسن 124 ووٹ حاصل کرسکے۔

الیکشن کمیشن سے جاری ووٹر فہرست کے مطابق سینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی کل تعداد 1174 ہے لیکن صدارتی انتخابات کے لیے 1121 ارکان ووٹ ڈال پائیں گے۔ سینٹ کی 2 قومی اسمبلی کی 12 نشستیں خالی، چار صوبائی اسمبلیوں کی 30 نشستیں بھی خالی پڑی ہیں اور 9 نشستوں پر ابھی تک حلف نہیں اٹھایا جاسکا۔

 

صدارتی انتخاب کا عمل صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہے گا، خفیہ رائے شماری کے تحت ہونے والے انتخاب میں موبائل فون سمیت کسی بھی کیمرہ ڈیوائس کا پولنگ اسٹیشن میں لانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

صدارتی انتخاب کا آئینی طریقہ کار

آئین پاکستان 1973ء کا تیسرا باب پاکستان کی وفاق سازی کے مطلق ہے۔ صدر کا عہدہ شق 41 کی ذیلی ایک کی رو سے سربراہ مملکت اور وفاق کے اتحاد کی علامت ہے۔ ذیلی نمبر 2 کے مطابق جو شخص مسلمان نہ ہو، 45 سال سے کم عمر ہو صدر پاکستان نہیں بن سکتا۔ صدر کا انتخاب الیکٹورل کالج دونوں ایوان اور صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہوگا۔ صدراتی انتخاب کیلئے پولنگ خفیہ بیلٹ سے ہوتی ہے۔ بیلٹ پیپر پر امیدواران کے نام انگریزی حروف کی ترتیب سے لکھے جاتے ہیں۔

اگر کوئی بیلٹ پیپر ووٹر سے خراب ہو جائے تو وہ اسے واپس کر کے نیا حاصل کر سکتا ہے۔ اس کا پہلا بیلٹ پیپر منسوخ کر کے دوسرا جاری کیا جائے گا۔ بیلٹ پیپر ناقابل قبول ہو گا اگر اس پر کوئی لکھائی یا ایسا نشان ہو جس سے ووٹر کی نشاندہی ہو سکے، یا اس پر پریذائڈنگ افسر کے ابتدائی دستخط نہ ہوں۔ کسی امیدوار کے نام کے سامنے نشان نہ ہو یا ایک سے زیادہ امیدواروں کے ناموں کے سامنے نشان لگایا گیا ہو تو وہ بھی منسوخ سمجھا جائے گا۔ پولنگ کے اختتام کے بعد پولنگ افسر امیدواروں یا اس کے مستند ایجنٹ کی موجودگی میں بیلٹ بکس کھولے گا، خالی کرے گا، گنتی کرے گا اور بیلٹ پیپرز کے اوپر نوٹ پر لکھے گا۔

حلف

اگر دو یا زیادہ امیدوار ہیں تو ان میں سے زیادہ ووٹ لینے والا جیت جائے گا۔ شق نمبر 42 کے تحت نومنتخب صدر پاکستان چیف جسٹس آف پاکستان سے حلف لیں گے۔