سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو ہمیشہ کے لیے نا اہل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو دستاویزات اب آرہی ہیں وہ پہلے کہاں تھیں۔ آف شور کمپنی فرشتوں نے نہیں جہانگیر ترین نے بنائی۔
جہانگیر ترین کی جانب سے اپنی نا اہلی کے خلاف دائر اپیل کی سماعت جمعرات کو سپریم کورٹ میں ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالت میں سخت سوالات ہوئے، جس کے بعد سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کی نظر ثانی کی درخواست خارج کر دی۔
عدالت کے فیصلے کے بعد جہانگیر ترین پارلیمانی سیاست سے ہمیشہ کیلئے آوٹ ہوگئے۔
چیف جسٹس نے جہانگیر ترین سے استفسار کیا کہ لندن میں گھر آپ کا تھا تو ٹرسٹ کے پاس ریکارڈ کیوں تھا، اور جو دستاویزات آپ اب لارہے ہیں پہلے کہاں تھیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جھانسہ دینے کیلئے ڈمی کمپنیاں بنائی جاتی ہیں، آف شور کمپنی فرشتوں نے نہیں جہانگیر ترین نے بنائی تھی، کیا ملک کے لیڈر ایسے اپنی جائیداد چھپاتے ہیں۔