اسحاق ڈار کی گاڑیاں اور اثاثے نیلام

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈرا کی جائیداد نیلام کرنے کا حکم دے دیا۔ اسحاق ڈار ریفرنس کیس میں اشتہاری اور لندن میں مقیم ہیں۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اسحاق ڈار کی پاکستان میں موجود جائیداد کی نیلامی کی درخواست منظور کرلی۔

 

احتساب عدالت نے اپنے فیصلے میں  سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی گاڑیوں اور گلبرگ لاہور کی جائیداد نیلام کرنے، اور بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم صوبائی حکومتوں کے حوالے کرنے کی ہدایت کر دی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ صوبائی حکومتوں پر منحصر ہے کہ وہ جائیدادیں نیلام کریں یا اپنے پاس رکھیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈارکی گاڑیاں جو ابھی تک قبضے میں نہیں لی گئیں فوری قبضے میں لی جائیں ، جب کہ اگلی سماعت میں باقی جائیداد ضبطگی کی تعمیلی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی

 

واضح رہے کہ یکم اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں درخواست گزار نیب کے تفتیشی افسر نے اسحاق ڈارکی بحق سرکار ضبط جائیداد کی تفصیل عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ 18 دسمبر 2017 کو اکاؤنٹس، گاڑیاں، شیئرز اور جائیداد ضبط کی گئی تھی جب کہ 14 دسمبر 2017 کو عدالت نے جائیداد قرقی کا حکم دیا تھا، جائیداد قرقی کے 6 ماہ بعد متعلقہ صوبائی حکومت عدالتی احکامات پر جائیداد قرق کرسکتی ہے۔

 

احتساب عدالت میں پیش کی گئی تفصیلات میں کہا گیا تھا کہ سابق وزیر خزانہ کے دبئی میں 3 فلیٹس، ایک لگژری گاڑی، گلبرگ لاہور میں ایک گھر اور اسلام آباد میں 4 پلاٹس ہیں، بیرون ملک تین کمپنیوں میں اسحاق ڈار شراکت دار، ان کی اہلیہ کے پاس پاکستان میں 6 گاڑیاں ہیں، میاں بیوی نے ہجویری ہولڈنگ کمپنی میں 34 لاکھ 53 ہزار کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔

 

قبل ازیں  نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے دلائل دیئے تھے کہ قانون کے مطابق 6 ماہ گزرنے کے بعد جائیداد نیلام کی جا سکتی ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ قرق جائیداد فروخت کرکے رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس ستمبر 2017 میں احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ کے خلاف ریفرنس درج ہونے کے بعد نیب نے ان کے تمام اثاثے منجمند کر دیئے تھے۔  پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا، جس میں انہیں مفرور قرار دیا جاچکا ہے۔

 

سابق وزیر خزانہ کو وطن واپس لانے کے لیے ایف آئی اے کی جانب سے ریڈ وارنٹ جاری کرتےہوئے انٹرپول کو بھی درخواست دی جاچکی ہے۔