تھرمیں غذائی قلت کےباعث بچوں کی اموات پر سپریم کورٹ نےسندھ حکومت پراظہارِ برہمی کیاہے۔اس حوالےسے صوبائی حکومت کی رپورٹ مسترد کردی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ اپنے لوگوں کومرتے نہیں دیکھ سکتا، رپورٹس نہیں بلکہ مسئلے کا حل چاہئے۔ اصل مسئلہ کوئی بیان نہیں کرتا،خود تھرجا کر بیٹھ جاﺅں گا ۔ عدالت نے کل بروز بدھ چیف سیکرٹری سندھ کوطلب کرلیا۔
سپریم کورٹ میں تھرمیں غذائی قلت سے بچوں کی اموات پرازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت میں سندھ حکومت کی جانب سے تھر میں ہلاکتوں سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں سال تھر میں 486 بچے ہلاک ہوئے جن میں 317 کی عمریں 11 ماہ سے کم تھیں۔
جسٹس ثاقب نثار نے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سب اچھا کررہی ہے تو یہ سب کیا ہے۔کوئی غذائی قلت سے مررہا ہےتو کوئی ناقص علاج معالجہ سے جان کی بازی ہار رہاہے۔
عدالت نے استفسارکیا کہ اتنی اموات کی آخر وجہ کیا ہے؟حکومت نے اب تک کیا اقدامات کیے؟ اٹارنی جنرل نے ہلاکتوں کی ذمہ داری سندھ حکومت پر ڈالتے ہوئے اندرونِ صوبے کے تمام اسپتالوں کا فرانزک آڈٹ کرانے کی تجویز دی۔
کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے ایم این اے رمیش کمار نے عدالت سے استدعا کی کہ تھرکیلئے تمام اداروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو رپورٹس نہیں، مسئلے کا حل چاہئے۔ خود تھرجاکر بیٹھ جاﺅں گا۔ لوگ کہتے ہیں کہ حدود سے تجاوز کررہا ہوں لیکن اپنے لوگوں کو مرتے نہیں دیکھ سکتا۔
عدالت نے ڈاکٹرثمرمبارک کے مقدموں سے متعلق کیس مقررکرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اربوں روپے لے کرچلے گئے۔ سپریم کورٹ نے چیف سیکرٹری ،سیکرٹری صحت سندھ اورایڈووکیٹ بدھ کو طلب کرکے سماعت ملتوی کردی۔