ترکی کا جمال خاشقجی کے قتل کے حقائق منظرعام پرلانے کااعلان

ترک حکومت نے سعودی سرکار کی وضاحت کے باوجود استنبول کے سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حقائق منظر عام پر لانے کا اعلان کردیا ۔


حکومتی ترجمان نے بیان دیا ہے کہ قتل کس نے اور کیسے کیا،  سعودی قونصل خانے میں کیا کچھ ہوا۔یہ سب سامنے لائیں گے۔ کسی کواس معاملے پر پردہ نہیں ڈالنے دیں گے۔ترک حکومت تمام تفصیلات جاری کرے گی۔

سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل کا اعتراف کرلیا

ترک حکام کا کہنا ہے جمال خاشقجی کو ایک سعودی ہٹ سکواڈ نے قونصل خانے میں قتل کیا۔ مشتبہ سعودی ایجنٹس کی پندرہ رکنی ٹیم کی شناخت کر لی  گئی ہے۔

حکام کے مطابق سعودی ایجنٹس جمال خاشقجی کی گمشدگی کے روزاستنبول آئے اور واپس گئے تھے۔یہ گروپ اپنے ساتھ ہڈیاں کاٹنے والی آرا مشین لایا تھا۔ آڈیو اور ویڈیو ثبوت موجود ہیں جو تاحال یہ سامنے نہیں لائے گئے۔

ترک حکام نےیہ انکشاف بھی کیا ہے کہ سعودی اسکواڈ  کے بعض ارکان ولی عہد کے اسٹاف میں شامل تھے۔

جمال خاشقجی کون تھے؟

دوسری جانب سعودی موقف پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی قتل کیس پر سعودی عرب کی تحقیقات سے مطمئن نہیں ۔ ابھی بہت سے سوالات کے جوابات ملنا باقی ہیں۔

اس سے پہلے جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے بعد امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی موت میں سعودی عرب کا ہاتھ ہے تو اسے سخت سزا دیں گے۔