اسلام آباد : آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں نیب کی زیر حراست مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف مزید مشکل میں پڑ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں بھی شہباز شریف کی گرفتاری ڈال دی۔ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے 29 اکتوبر کو احتساب عدالت میں شہباز شریف کے مزیدریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔
نیب نے اثاثوں سے متعلق مزید معلومات کے لیے شہباز شریف کے صاحبزادوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو دوبارہ طلب کر رکھا ہے۔ شہباز شریف پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام عائد ہے ۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی نیب لاہور نے سلمان شہباز کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا۔ دوسری جانب ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے صاحبزادوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی تفصیلات نیب میں جمع کروا دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق نیب نے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے اور اس ضمن میں ایف بی آر سے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے کاروباروں کی 20 سالہ تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔ذرائع کے مطابق شہباز شریف کو داتا علی ہجویری کے عرس کی تقریبات کی وجہ سے مقامی تعطیل کے باعث 30 کی بجائے 29 اکتوبر کو عدالت میں پیش کرنے پر مشاورت ہوئی ۔
جس کے بعد اب حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو 29 اکتوبر کو پیش ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس کو بنیاد بنا کر شہباز شریف کے ریمانڈ میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ 16 اکتوبر کو نیب کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا مزید 10چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ جس کے بعد اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔
پاکستان لائرز فائونڈیشن نے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے شہباز شریف کی گرفتاری کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ انکوائری مکمل اور جُرم ثابت ہونے سے قبل ہی نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کر لیا۔ اس طرح سے ملزم کو گرفتار کرنا آئین کے آرٹیکل 10 کی خلاف ورزی ہے ۔اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست کہا کہ آئین کے تحت فری اینڈ فئیر ٹرائل ہر ملزم کا بنیادی حق ہے لیکن چیئرمین نیب نے شہباز شریف کو کیس میں فری اور فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا ۔
درخواست گزار تنظیم کے وکیل کے مطابق چیئرمین نیب کا دوران انکوائری کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے کا اختیار آئین سے متصادم ہے ۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ شہباز شریف کی گرفتاری آئین سے متصادم ہونے پر چیئرمین نیب کا شہباز شریف کی گرفتاری کا حکم کالعدم قرار دیا جائے ۔ شہباز شریف کی ضمانت منظور کر کے ان کی رہائی کا حکم دیا جائے ۔ تاہم عدالت نے یہ درخواست خارج کر دی اور اب شہباز شریف پر نیب کی جانب سے ایک اور کیس میں گرفتاری ڈال دی گئی ہے اور اس کیس میں مزید معلومات کے لیے ان کے دونوں صاحبزادوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو نیب نے طلب کر لیا ہے۔