ملک میں ہاوسنگ سوسائیٹیز کے نام پر گھپلے ہونے لگے

ہزاروں ہاوسنگ اسکیمیں غیر قانونی نکل آئیں،متنازعہ اراضی پر بنائی اسکیمیں شہریوں کے لیے درد سر بن گئیں

ملک میں ہاوسنگ سوسائیٹیز کے نام پر گھپلے ہونے لگے

لاہور  ملک بھر میں موجود ہزاروں ہاوسنگ اسکیمیں غیر قانونی نکل آئیں۔متنازعہ اراضی پر بنائی اسکیمیں شہریوں کے لیے درد سر بن گئیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے فزانزک آڈٹ کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے فرانزک آڈٹ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایف آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ کہ ملک کی631 کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹیز میں سے 452 کا فرانزک آڈٹ مکمل ہوگیا ہے۔

فرانزک آڈٹ کے دوران ہاؤسنگ سوسائٹیز میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ ایف آئی اے  کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 452 کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹیز میں صرف 51 قانون کے مطابق بنائی گئی ہیں۔ دوسری جانب 3ہزار186 نجی ہاؤسنگ اسکیمز میں سے 2ہزار814 کا آڈٹ مکمل ہوچکا ہے جن میں سے صرف 248 قانون کے مطابق ہیں۔

پانچ ہزار967 ہاؤسنگ اسکیمز کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہوئی۔

کوآپریٹیو سوسائٹیز کے لیے متنازعہ اراضی خریدی گئی۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے ٹکڑوں میں منتشر زمین خریدی گئی۔ نجی ہاؤسنگ اسکیمز میں عوام کے ساتھ فراڈ ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ درخواست گزاروں سے رقم لے کر بھی پلاٹ نہ دیے گئے،پلاٹ کی ایک فائل بار بار فروخت کی گئی۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی جانب سے قنضہ گروپوں کو پیسے دیے گئے۔ رقم کی منتقلی کے لیے غیرتصدیق شدہ اکاؤنٹ کھول کر رجسٹرار آفس اور آڈٰیٹر سے چھپائے گئے۔