'انگریزوں کو میرا جسم نہیں ملنا چاہیے

انگریزوں کی طرف سے کیپٹن روڈرک برگز پہلے ایسے شخص تھے

  • انگریزوں کی طرف سے کیپٹن روڈرک برگز پہلے ایسے شخص تھے جنھوں نے جھانسی کی رانی لکشمی بائی کو اپنی آنکھوں سے جنگ کے میدان میں لڑتے ہوئے دیکھا تھا۔

انھوں نے گھوڑے کی لگام اپنے دانتوں سے دبا رکھی تھی اور دونوں ہاتھوں سے تلوار چلا رہی تھیں اور ایک ساتھ دونوں طرف وار کر رہی تھیں۔

ان سے پہلے ایک دوسرے انگریز جان لینگ کو رانی لکشمی بائی کو نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملا تھا، لیکن میدان جنگ میں نہیں۔ انھوں نے انھیں ان کی حویلی میں دیکھا تھا۔

جب دامودر کے گود لیے جانے کو انگریزوں نے غیر قانونی قرار دیا تو رانی لکشمی بائی کو جھانسی کا اپنا محل چھوڑنا پڑا تھا۔

انھوں نے تین منزلہ معمولی عمارت 'رانی محل' میں پناہ لی تھی۔

رانی نے وکیل جان لینگ کی خدمات حاصل کی جنھوں نے حکومت برطانیہ کے خلاف حال میں ایک مقدمہ جیتا تھا۔

کتاب میں جان لانگ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ 'رانی درمیانہ قد کی مضبوط خاتون تھیں۔ جوانی میں وہ بہت خوبصورت رہی ہوں گی لیکن اس وقت بھی ان کے چہرے کی رونق کم نہیں تھی۔ مجھے ایک چیز پسند نہیں آئی۔ ان کا چہرہ بہت زیادہ گول تھا۔ البتہ ان کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں اور ناک بھی بہت نازک تھی۔ ان کا رنگ بہت گورا نہیں تھا۔

’انھوں سونے کی کان کی بالیوں کے علاوہ کوئی زیور نہیں پہنا تھا۔ وہ سفید ململ کی ساڑھی میں ملبوس تھیں جس میں ان کے جسم کے خدو خال واضح نظر آتے تھے۔ ان کی شخصیت کو جو چیز خراب کر رہی تھی وہ ان کی آواز تھی۔'

رانی کے شہسوار

بہرحال کیپٹن روڈرک برگز نے فیصلہ کیا کہ وہ آگے بڑھ کر خود ہی رانی پر وار کرنے کی کوشش کریں گے۔

لیکن جب وہ ایسا کرنا چاہتے تو رانی کے گھڑسوار انھیں گھیر کر ان پر حملہ کر دیتے۔ ان کی کوشش یہی تھی کہ وہ ان کی توجہ دوسری جانب کر دیں۔

کچھ لوگوں کو زخمی اور قتل کرنے کے بعد روڈرک نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور رانی کی طرف بڑھنے لگے۔

اسی وقت روڈرک کے پیچھے سے اچانک جنرل روز کی انتہائی ماہر اونٹ یونٹ اس جانب آ نکلی۔ یہ ان کی ریزور یونٹ تھی۔

انگریز فوجی

رانی اور ان کے ساتھی ابھی ایک میل ہی پہنچے تھے کہ کیپٹن برگز کے فوجی ان کے سر پر آ پہنچے۔ یہ جگہ کوٹا کی سرائے تھی۔

لڑائی نئے سرے سے شروع ہوئی۔ رانی کے ایک فوجی کے مقابلے میں اوسطاً دو برطانوی فوجی لڑ رہے تھے۔ اچانک رانی کو اپنے بائیں سینے کی جانب درد محسوس ہوا جیسے کہ کسی سانپ نے کاٹ لیا ہو۔

ایک انگریز سپاہی جسے وہ دیکھ نہ سکیں تھیں اس نے ان کے سینے میں سنگینیں اتار دی تھی۔ وہ مڑیں اور حملہ آور پر اپنی تلوار سے ٹوٹ پڑیں۔

رائفل کی گولی

رانی کی چوٹ بہت گہری نہیں تھی لیکن خون تیزی سے نکل رہا تھا۔ اچانک گھوڑے پر دوڑتے ہوئے ان کے سامنے پانی کا چشمہ آگیا۔ انھوں نے سوچا کہ اگر وہ چھلانگ لگا کر آبشار کے پار ہو جائیں تو کوئی انھیں پکڑ نہیں سکے گا۔

انھوں نے گھوڑے کو ایڑ لگائی لیکن گھوڑاچھلانگ لگانے کے بجائے اتنی تیزی سے رکا کہ وہ اس کی گردن تک سرک کر پہنچ گئیں۔

میدان جنگ کی عکاسی

اسی حال میں رانی نے اپنی پوری قوت سے اس انگریز پر تلوار چلائی جو صرف اس کے کندھے کو ہی زخمی کر پائی۔ رانی گھوڑے سے نیچے گر پڑی۔

اس کے بعد ان کے فوجیوں میں سے ایک نے اپنے گھوڑے سے اتر کر انھیں گود میں لے لیا اور انھیں قریبی مندر میں لے گیا۔ رانی اس وقت تک زندہ تھیں۔

مندر کے پادری نے ان خشک ہونٹوں کو ایک بوتل میں رکھے گنگا جل (دریائے گنگا کے پانی) سے تر کیا۔ رانی بہت خراب حالت میں تھیں۔ آہستہ آہستہ وہ اپنے حواس کھو رہی تھیں۔

دوسری جانب مندر کے احاطے کے باہر فائرنگ مسلسل جاری تھی۔ آخری سپاہی کو مارنے کے بعد برطانوی فوجی نے سمجھا کہ انھوں نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔

دامودر کے لیے۔۔۔

اس کے بعد روڈرک نے بلند آواز سے کہا: 'وہ مندر کے اندر گئے ہیں، ان پر حملہ کرو، رانی اب بھی زندہ ہے۔'

دوسری طرف پجاریوں نے رانی کے لیے آخری لمحات دعائیں شروع کر دیں۔ رانی کی ایک آنکھ انگریز فوجی کی کٹار کے زخم سے بند تھی۔

فلم جھانسی کی رانی کا منظر

مندر کے اندر سے انگریزوں پر صرف تین رائفلیں گولیاں برسا رہی تھیں۔ پہلے ایک رائفل خاموش ہوئی۔۔۔ پھر دوسری اور پھر تیسری بھی خاموش ہو گئی۔

جب انگریز مندر میں داخل ہوئے تو وہاں سے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔ سب کچھ پرسکون تھا۔ سب سے پہلے روڈرک برگز اندر داخل ہوئے۔

وہاں رانی کے کئی درجن سپاہیوں اور مندر کے پجاریوں کی خون میں سنی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ کوئی بھی زندہ نہیں تھا۔ لیکن صرف ایک لاش کی تلاش جاری تھی۔

اسی وقت ان کی نظر ایک چتا یعنی لاش کو جلانے والی آگ پر پڑی جس کی لپٹ اب مدھم پڑ چکی تھی۔ انھوں نے اپنے بوٹ سے اسے بجھانے کی کوشش کی۔ پھر انھیں جلتے ہوئے انسانی جسم کے باقیات نظر آئے۔ رانی کی ہڈیاں تقریباً راکھ ہو چکی تھیں۔

جھانسی کی رانی لکشمی بائی

اس جنگ میں شریک کیپٹن کلیمنٹ واکر ہنيج نے بعد میں رانی کے آخری لمحات کو بیان کرتے ہوئے لکھا: 'مزاحمت ختم ہو چکی تھی۔ صرف چند فوجیوں سے گھری اور ہتھیاروں سے لیس ایک عورت اپنے فوجیوں میں جان پھونکنے کی کوشش کر رہی تھی۔

’بار بار وہ اشاروں اور بلند آواز سے اپنے شکست سے دو چار سپاہیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی۔ لیکن اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہو رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم نے اس عورت پر بھی قابو حاصل کر لیا۔ ہمارے ایک فوجی کے خنجر کا تیز وار اس کے سر پر پڑا اور سب کچھ ختم ہو گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ عورت اور کوئی نہیں خود جھانسی کی رانی لکشمی بائی تھی۔'