نیویارک دنیا کے سب سے بڑے آن لائن اسٹور کا درجہ رکھنے والے امریکی آن لائن اسٹور ’ایمازون’ کے ملازمین نے بلیک فرائیڈے کے موقع پر احتجاج کرکے انتظامیہ کو پریشان کردیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یورپ کے کئی ممالک میں موجود ایمازون اسٹور کے ملازمین نے بلیک فرائیڈے پر مسلسل 24 گھنٹے تک کام کرنے کے خلاف مظاہرہ کیا۔
بزنس انسائیڈر کے مطابق بلیک فرائیڈے کے موقع پر برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی اور اسپین میں موجود ایمازون کے ملازمین نے اسٹورز کے باہر مظاہرہ کیا۔غیر ملکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں دیگر نشریاتی اداروں کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یورپی ممالک میں موجود ایمازون کے ملازمین نے بلیک فرائیڈے کے موقع پر مسلسل 24 گھنٹے تک کام کرنے کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔
رپورٹ کے مطابق مظاہرہ کرنے والے ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ انسان ہیں، روبوٹ نہیں ہیں کہ وہ مسلسل 24 گھنٹوں تک کام کریں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ یورپ بھر میں ایمازون کے کم سے کم 3 ہزار کے قریب ملازمین نے لگاتار 24 گھنٹے تک کام کرنے کے خلاف مظاہرہ کیا، جبکہ اس مظاہرے میں عام افراد بھی شامل ہوئے۔بلیک فرائیڈے پر 24 گھنٹوں تک کام کروانے کے خلاف جرمنی میں ایمازون کے 620 جبکہ اسپین میں 1600 سے زائد ملازمین نے احتجاج میں حصہ لیا۔
برطانیہ اور فرانس میں بھی ایمازون کے ملازمین نے احتجاج کیاجس وجہ سے انتظامیہ پریشان ہوگئی اور انہوں نے مقامی پولیس سے مدد بھی طلب کی، تاہم پولیس نے ایمازون کی مدد کرنے سے معذرت کرلی۔رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ملازمین کی جانب سے مظاہرہ ایمازون کا اندرونی مسئلہ ہے، انتظامیہ نے مظاہرہ کرنے والے ملازمین کے تمام مطالبے ماننے کی یقین دہانی بھی کروائی تاہم ان کا مظاہرہ جاری رہا۔ایمازون بلیک فرائیڈے کے موقع پر ملازمین کو اضافی وقت تک کام کرنے کے اضافی پیسے بھی فراہم کرتا ہے، تاہم اس بار ملازمین نے 24 گھنٹوں تک کام کروائے جانے کے خلاف مظاہرہ کیا۔