سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اعلان کیا ہے کہ ان کے والد اور سابق امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کا 94 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔
ان کے اہل خانہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سینیئر جارج بش کہے جانے والے صدر کا جمعے کی شام کو انتقال ہو گيا۔
وہ دوسری جنگ عظیم کے پائلٹوں میں شامل تھے۔ سنہ 1964 میں ریپبلکن کی جانب سے سیاست میں اترنے سے قبل وہ ٹیکسس میں تیل اور پیٹرول کے بڑے تاجر تھے۔
رواں سال ان کی اہلیہ بابرا بش کا بھی انتقال ہوا ہے۔ ان کے انتقال کے ایک ہفتے بعد اپریل میں انھیں ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رکھا گیا تھا۔ انھیں کسی قسم کا انفیکشن ہو گیا تھا۔
وہ سب سے زیادہ عمر پانے والے امریکی صدر ہیں۔
- سنہ 1966 میں انھوں نے ایوان نمائندگان میں سیٹ حاصل کی۔
- سنہ 1971 میں صدر نکسن نے انھیں اقوام متحدہ کا سفیر مقرر کیا۔
- سنہ 1974 میں بیجنگ میں قائم نئے مشن کی سربراہی کی۔
- سنہ 1976 مین فورڈ نے انھیں سی آئی اے کا ڈائریکٹر بنایا۔
- سنہ 1981 سے 1989 کے درمیان رونالڈ ریگن کے نائب صدر رہے۔
- سنہ 1989 سے 1993 کے درمیان امریکہ کے صدر رہے اور خلیجی جنگ میں امریکہ کی قیادت کی۔
جارج ہربرٹ واکر بش کی پیدائش 12 جولائی سنہ 1924 میں میساچوسٹس کے ملٹن میں ہوئی تھی۔ وہ ایک انوسٹمنٹ بینکر کے گھر میں پیدا ہوئے تھے۔
پرل ہاربر کے واقعے کے بعد انھوں نے امریکی بحریہ میں رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا اور انھیں بحرالکاہل میں جاپان کے خلاف دوسری جنگ عظیم کے دوران پائلٹ کی خدمات انجام دینے سے قبل طیارہ کو پرواز کرانے کی تربیت دی گئی تھی۔
امریکی بحریہ سے فرصت کے بعد انھوں نے 18 سالہ باربرا پیئرس سے شادی کی اور ایک سال بعد ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جو ان کی طرح بعد میں امریکہ کا صدر بنا۔