کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا

ڈیفینس میں ہونےوالےدھماکے کے بارے میں بڑی خبر



ڈیفنس میں ہونے والا دھماکا گیس سلنڈر کا نہیں بم کا تھا.کراچی پولیس

گاڑی میں دھماکا دیسی ساخت کی ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا. ڈی آئی جی ساﺅتھ

کراچیڈی آئی جی ساﺅ تھ کا کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ہونے والے دھماکے کے متعلق کہنا ہے کہ یہ دھماکا گیس سلنڈر کا نہیں بم کا تھا. صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دھماکا دہشت پھیلانے کی ایک ناکام کوشش تھی، گاڑی میں دھماکا دیسی ساختہ (VBIED) وی بی آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا.

ڈی آئی جی ساﺅتھ نے مزید بتایا کہ دھماکا خیز مواد کو دیگر سلنڈرز میں بھری گیس کے ساتھ کنیکٹ کیا گیا تھا، خوش قسمتی سے پورا بم نہیں پھٹ سکا. انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دھماکے میں 6 میٹر لمبی ڈیٹونیٹنگ کورڈ استعمال کی گئی، دھماکا کرنے کی کوشش خوف و ہراس پھیلانا تھا.

ڈی آئی جی ساﺅتھ نے یہ بھی بتایا کہ دھماکے میں 8 سے 10 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا.

واضح رہے کہ آج کراچی کے علاقے ڈیفنس میں خیابان مجاہد کے ایک خالی پلاٹ پر کھڑی گاڑی میں دھماکا ہواتتھا جس کے نتیجے میں گاڑی جل کر خاکستر ہو گئی تھی. واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تھا، گاڑی سے گھر میں استعمال ہونے والے گیس کے 6سلنڈر بھی ملے ہیں. آگ بجھانے کے لیے فائربریگیڈ کو جبکہ دھماکے کی نوعیت کا پتہ لگانے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا تھا.

فائر بریگیڈ نے فوری طور پر آگ پر قابو پالیا تھا، دھماکے کے نتیجے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تھا، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوع سے گاڑی کے پرزوں کو جمع کیا تھا. تفتیشی ذرائع کے مطابق گاڑی گزشتہ روز جمشید کوارٹر سے چوری ہوئی تھی، یہی گاڑی اس سے قبل 2007ءمیں بوٹ بیسن سے چوری ہوئی تھی اور 5روز بعد میٹروول میں واقع ولیکا ہسپتال کے پاس سے ملی تھی.

گاڑی ثناءاللہ نامی شہری کے نام پر ہے اور گزشتہ روز گاڑی کی چوری کی شکایت حنا نامی خاتون نے کرائی تھی. بم ڈسپوزل ذرائع کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ جائے وقوع سے سلنڈر دھماکے کے شواہد نہیں ملے. بم ڈسپوزل اسکواڈ تباہ ہونے والی کار کے پرزے ساتھ لے گیا جبکہ پولیس نے جائے وقوع کو سیل کرکے 2پولیس موبائلز کو تعینات کر دیا ہے.