پاکستان کے 10 کروڑ موبائل فون صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا انکشاف

ڈیٹا کیسے لیک ہوا؟



اسلام آباد : پاکستان کے 10 کروڑ موبائل صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نادرا ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور موبائل کمپنیوں کی غفلت اور نا اہلی کے باعث پاکستان میں موبائل استعمال کرنے والے 10 کروڑشہریوں کا ڈیٹا لیک ہو گیا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ برطانیہ اور پاکستان میں بھی مختلف ویب سائٹس پر موبائل نمبر انٹر کیا جائے تو فوری طورپر مذکورہ شخص کی تمام تفصیلات اسکرین پر نمودار ہو جاتی ہیں جن میں پورا نام ،عارضی و مستقل پتہ، شناختی کارڈ نمبر اوردیگر ٹیلیفون نمبرز شامل ہیں۔

اس وجہ سے 10 کروڑ پاکستانی شہریوں بالخصوص خواتین کی نجی معلومات خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

اور تمام صارفین کے لیے مشکلات کھڑی ہونے کا امکان ہے۔ کسی خاتون کا نمبر ان ویب سائٹس پر انٹر کیا جائے تو مندرجہ بالا تمام تفصیلات فوری طور پر کمپیوٹر اسکرین پرسامنے آ جاتی ہیں۔ گذشتہ دور حکومت میں ملک میں موبائل رکھنے والے تمام پاکستانیوں کی تصدیق بائیو میٹرک کے ذریعے پی ٹی اے کی نگرانی میں ہوئی تھی ،اب نادرا اور پی ٹی اے کی غفلت اور غیر ذمہ داری کے باعث یہ ڈیٹا لیک ہونے سے انٹرنیشنل ہیکرز مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان کے ایک بڑے اسلامی بینک کے کریڈٹ کارڈز کا ڈیٹا بھی لیک ہو گیا تھا جس کی وجہ سے بینک صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ہیکرز نے بینک صارفین کا ڈیٹا ہیک کر کے بیرون ملک ان کا کارڈ استعمال کر کے بھاری رقوم نکال لی تھیں۔ آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا فوری طور پر کوئی حل نکالنا انتہائی ضروری ہے بصورت دیگر عین ممکن ہے کہ پاکستان دشمن قوتیں صارفین کے اس ڈیٹا کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیں۔