’یہ ڈیل والی نہیں بلکہ جیل جانے والی باتیں ہیں‘

آصف زرداری سرد موسم میں سیاسی گرماگرمی کی جستجو میں کیوں ہیں؟

ایف آئی اے آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ کے مقدمات کی تحقیقات کر رہا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری موسم سرما میں سیاسی گرما گرمی پیدا کرنے کی جستجو میں نظر آ رہے ہیں۔

ان کی حالیہ گرج برس سندھ کے شہر حیدر آباد میں منعقد ہونے والے ایک جلسے سے خطاب کے دوران اس وقت سامنے آئی جب انھوں نے کسی نام یا منصب کے ذکر کے بغیر کہا کہ جن کی مدت ملازت تین سال ہے وہ قوم کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ طاقت صرف پارلیمان کے پاس ہے۔ آپ کا اس سے کیا تعلق ہے؟ آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔‘ آصف زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالتوں میں 90 لاکھ مقدمات زیرِ التوا ہیں پہلے انھیں نمٹائیں۔

اس خطاب کے علاوہ انھوں نے صحافیوں سے گذشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ انھیں وسط مدتی انتخابات کے اشارے مل رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن نے یہ باتیں ایک ایسے موقع پر کی ہیں جب جعلی اکاؤنٹس کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ 19 نومبر کو سپریم کورٹ میں پیش کی جا رہی ہے۔

ایف آئی اے آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ کے مقدمات کی تحقیقات کر رہا ہے اور اس سلسلے میں تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کے روبرو آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال بھی پیش ہو چکے ہیں۔

ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اومنی گروپ کے بے نامی اکاؤنٹس سے زرداری گروپ کو بھی مالی منتقلیاں کی گئی تھیں۔

بات منی لانڈرنگ تک محدود نہیں رہی

تجزیہ نگار اور سینیئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کے خلاف مقدمات پختہ ہو رہے ہیں اور اب بات منی لانڈرنگ تک محدود نہیں ہے۔

جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم نے سنہ 2008 سے لیکر 2018 تک سندھ حکومت کا تمام ریکارڈ طلب کیا ہے جو کہ بقول وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے دے دیا گیا ہے۔

مظہر عباس کے مطابق ’تحقیقات بہت باریک بینی سے ہو رہی ہیں اور آصف علی زرداری کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ انھیں دباؤ میں لانے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے ورنہ وہ موجودہ سیاسی صورت حال میں وسط مدتی انتخابات اور حکومت جانے کی بات کیوں کریں گے؟۔‘

تصویر کے کاپی رائٹEPAImage captionموجودہ وقت تحریک انصاف اور اسٹیبلشمینٹ ایک پی پیج پر نظر آتے ہیں اور ان میں مکمل طور پر ہم آہنگی نظر آ رہی ہے: صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس

پاکستان میں ماضی میں حکومتوں کے خلاف سیاسی جماعتوں کے الائنس اور فوجی اسٹیبلشمینٹ کی مدد و حمایت کی تاریخ رہی ہے۔ پی این اے اور آئی جی آئی اس کی واضح مثالیں ہیں۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ موجودہ وقت تحریک انصاف اور اسٹیبلشمینٹ ایک پی پیج پر نظر آتے ہیں اور ان میں مکمل طور پر ہم آہنگی نظر آ رہی ہے۔

’اس وقت تک کوئی ایسا اشو سامنے نہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ شاید پی ٹی آئی یا وزیراعظم عمران خان کسی مسئلے پر خوش نہیں یا اسٹیبلشمینٹ ان سے ناراض ہے، اس طرح عدلیہ سے بھی انھیں کسی بڑے مسئلے کا سامنے نہیں ہے۔

مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی دونوں کی قیادت کا کہنا ہے کہ انھیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے: سینیئر صحافی عارف نظامیپیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز اتحاد

قومی اسمبلی کے اجلاس میں آصف زرداری نے شہباز شریف سے ملاقات کی، غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق انھوں نے نواز شریف سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمرزماں کائرہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے ملاقات کی خواہش کے اظہار سے وہ لاعلم ہیں تاہم شہباز شریف سے ملاقات اچھنبے کی بات نہیں۔ دونوں اپوزیشن جماعتیں ہیں اور بہت سارے معاملات پر ایڈجسمنٹ کرنی پڑتی ہے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے۔

’پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز دونوں مختلف خیال اور طبقات کی جماعتیں ہیں بعض اوقات سیاسی مجبوریاں ایسا کر دیتی ہیں۔ سنہ 2008 میں ہم دونوں اکٹھے حکومت میں بھی آ گئے تھے۔ سیاست میں ممکنات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا لیکن اس پر ابھی تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔‘