پشاور پشاور کے ماس ٹرانزسٹ منصوبے میں استعمال ہونے والی جدید ترین بسیں چین سے پاکستان آنے کے لیے تیار ہیں جن کو جلد ہی پاکستان لایا جائے گا۔۔تفصیلات کے مطابق پشاور کا ماس ٹرانزسٹ منصوبہ اختتامی مراحل میں پہنچ چکا ہے۔اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی جانے والے اس ماس ٹرانزٹ منصوبے کی وجہ سے پشاور شہر کے ٹریفک مسائل کافی حد تک ختم یا کم ہوجانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
س منصوبے میں 300 جدید ترین ایئرکنڈیشنڈ بسیں چلائی جائیں گی جس سے روزانہ کے بنیاد پر قریب 40 لاکھ مسافر مستفید ہوں گے۔اس منصوبے کا آغاز کرتے وقت اس وقت کے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ منصوبہ شہر کی خوشحالی اور خطے کی اقتصادی ترقی میں سنگ میل ثابت ہو گا اور پشاور کے بارے میں دُنیا کے تاثرات کو بھی بدل کر رکھ دے گا: ’’اس شاہکار منصوبے کی بدولت ٹرانسپورٹرز سے لے کر ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز تک کوئی بیروزگار نہیں ہو گا کیونکہ بس ریپیڈ کی منصوبہ بندی نہ صرف شہریوں بلکہ دیگر تمام ضروریات کے مطابق کی گئی ہے۔
پشاور کے علاقے چمکنی سے حیات آباد تاک 26 کلومیٹر طویل اس روٹ پر مسافروں کی بہتر خدمات کے پیش نظر 31 اسٹیشن قائم کیے جارہے ہیں جہاں پر مسافروں کو انتظار گاہ کی صورت میں تمام تر جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔تاہم یہ منصوبہ مسلسل تاخیر کا شکار ہوتا رہا تھا جس کے باعث تعمیراتی کاموں اور دیگر رکاوٹوں کے باعث عوام شدید ذہنہ اذیت کا شکار تھے ۔
تاہم تازہ ترین خبر کے مطابق اہلیان پشاور کا انتظار ختم ہو چکا ہے۔مذکورہ منصوبے میں استعمال ہونے والی بسیں چین میں تیار کھڑی ہیں جن کو جلد پاکستان منتقل کیا جائے گا۔ان بسوں کی نصاویر منظر عام پر آچکی ہیں جبکہ یہ جدید ترین بسیں تمام سہولیات سے مزین ہیں۔