سی ٹی ڈی پنجاب کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے

دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے شہرت رکھنے والا کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ یا سی ٹی ڈی پنجاب کیا کبھی ساہیوال جیسے واقعات کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن سکتا تھا؟

دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قائم کیے جانے والے اس ادارے کے قیام اور موجودہ شکل تک پہنچنے میں اس کے ارتقا پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے امکانات ہمیشہ سے موجود تھے۔

ایسا کیوں ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ساہیوال کے واقعے کے پس منظر میں سی ٹی ڈی کے قیام کی وجوہات، اس کے پاس موجود اختیارات، اس کے کام کرنے اور خصوصاً انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے طریقہ کار پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

ابتدا میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ یا سی ٹی ڈی پولیس کا کرمنل انویسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ تھا۔ سنہ 2007 کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی لہرسے داخلی سلامتی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک غیر فوجی ادارے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

یہ ایسا ادارہ تھا جو انٹیلی جنس جمع کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کرنے، مجرموں کو سزا دلوانے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ اس کے لیے سی آئی ڈی کا انتخاب کیا گیا۔

صوبائی سطح پر اس کی موجودگی پہلے سے تھی۔ سنہ 2010 میں سی آئی ڈی کا نام بدل کر سی ٹی ڈی کر دیا گیا جس کا دائرہ کار صوبائی سطح تک بڑھایا گیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فوج کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف رد الفساد جیسے آپریشن کیے گئے۔ اس دوران مشترکہ آپریشن بھی کیے جاتے رہے۔ ’اس کے بعد پھر سی ٹی ڈی پنجاب پر باقی اداروں کا اثر و رسوخ آنا شروع ہوا۔‘

خیال رہے کہ ساہیوال کے واقعے کے فوراً بعد بھی جاری کردہ بیان میں سی ٹی ڈی پنجاب نے کہا تھا کہ مذکورہ کارروائی جس انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی اس میں پاکستان کے بنیادی حساس ادارے آئی ایسں آئی کی اِن پُٹ یا رائے بھی شامل تھی۔

کیا ساہیوال میں کچھ مختلف ہوا؟


عامر رانا کا ادارہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز ایسے واقعات کی باقاعدہ جانچ پڑتال کرتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ سی ٹی ڈی سندھ نے اس جنگ میں نسبتاً زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ انھوں نے کالعدم تنظیم داعش کے انصارلاشریعہ جیسے نیٹ ورک ختم کیے ہیں۔

سی ٹی ڈی پنجاب کو بڑا خطرہ تین کالعدم گروہوں سے تھا۔ ان میں ایک پنجابی طالبان کے ٹوٹے ہوئے گروپ تھے۔ مگر ان میں سے بیشتر کو قبائلی علاقوں یا پھر افغانستان میں بےاثر بنایا گیا ہے۔

’تاہم پنجاب کو جماعت الاحرار جیسی کالعدم تنظیم کا سامنا رہا جسے ختم کرنے میں سی ٹی ڈی پنجاب نے اہم کردار ادا کیا ہے۔‘ اسی طرح تحریکِ طالبان پاکستان کے چند سلیپنگ سیل ختم کرنے میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔ جہاں تک داعش یا القاعدہ جیسے بڑے خطرات سے نمٹنے کی بات ہے تو اس کا کریڈٹ تمام اداروں کو مشترکہ طور پر جاتا ہے۔‘

ساہیوال جیسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟

حکومتِ پنجاب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں ساہیوال کے واقعے میں گولی چلانے والے پانچ سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی عدالت میں قتل کے مقدمات چلانے کا حکم دیا ہے۔

تمام تر توجیہات کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا گولی چلانا ہی آخری راستہ تھا؟ کسی کے خلاف دہشت گردی کے خدشات تھے تو اسے گرفتار کر کے صفائی کا موقع کیوں نہیں دیا گیا؟

عامر رانا کا خیال ہے کہ ایسے واقعات کے بار بار ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سی ٹی ڈی سمیت داخلی سلامتی کے اداروں کو بےپناہ اختیارات تو دیے گئے ہیں تاہم ان کے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے کوئی موثر نظام دستیاب نہیں۔

’اگر ایسے واقعات ہوتے رہے تو ان کے نتائج الٹ بھی نکل سکتے ہیں۔ آج بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو ایسے واقعات کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘

عامر رانا کا کہنا ہے کہ ساہیوال کے واقعے میں حکومت کے پاس ایسا نظام بنانے کا ایک اور موقع موجود ہے۔