امریکی تاریخ کاسب سے بڑا شٹ ڈاؤن ختم

امریکی تاریخ کا سب سے بڑا جزوی شٹ ڈاؤن بالآخرختم ہوگیا ۔ صدرڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو بارڈر پر دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈنگ کا مطالبہ عارضی طور پر موخر کردیا ۔


ڈونلڈ ٹرمپ نے بحران میں اضافے اور ڈیموکریٹس کی جانب سے سخت دباؤ مزید برداشت نہ کرتے ہوئے امریکی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کے خاتمے کا اعلان کردیا۔

گزشتہ پینتیس روز سے جزوی شٹ ڈاؤن کے ختم ہونے کے بعد 8 لاکھ ملازمین کو تنخواہ ملنے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں ۔

صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ 3 ہفتے کے لیے سرکاری محکموں اور اداروں کی فنڈنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے لیکن اس میں ہماری خواہشات کے برعکس امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوارقائم کرنے کیلئے رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے اعلان کے بعد ایوان کے دونوں حصوں میں بل منظورکیا گیا جس سے شٹ ڈاؤن کم از کم 15 فروری تک ختم ہو گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اگر کانگریس نے پندرہ فروری تک منصفانہ معاہدہ نہیں کیا تو دوبارہ شٹ ڈاؤن کیاجائے گا۔

صدرٹرمپ کو میکسیکو سرحد پر ایمرجنسی نافذ کر کے فنڈز کے اجراء کا اختیار حاصل ہے جبکہ ایمرجنسی فنڈنگ کے لیے کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

ان تمام تر مشکلات کا آغاز صدر ٹرمپ کی میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کے فنڈز سے ہوا تھا۔ میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے حکومت نے 5 اعشاریہ 7 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا لیکن کانگریس نے دیوار کے لیے رقم کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔

میکسیکو سرحد پر دیوار بنانے کے لیے مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔

شٹ ڈاؤن کے اثرات

امریکا کی تاریخ میں پہلی بار 5 ہفتے تک جاری رہنے والے اس شٹ ڈاؤن سے 8 لاکھ سرکاری ملازمین متاثر ہوئے جنہیں تنخواہیں ہی نہیں ملیں۔

تنخواہیں نہ ملنے پر ائرٹریفک کنٹرولر اہلکاروں نے چھٹیاں لے لیں جس سے پروازوں کا نطام بھی سخت متاثر ہوا۔ جمعے کے روز

روازوں کا نظام جزوی طور پر بند ہو گیا تھا۔ محکمہ انٹرنل ریونیو سروس کے ہزاروں اہلکار بھی کام پر واپسی کے حکم کے باوجود چھٹیوں پر چلے گئے۔

شٹ ڈاؤں کے باعث وسائل تقریبا ختم ہونے پرغم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر ایف بی آئی کرسٹوفر رے نے اپنے ایجنٹس کو ویڈیو پیغام میں یہ تک کہہ دیا کہ بہت عرصے بعد میں اس قدر غصے میں ہوں۔