ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے معاملے پر ہمارا کام فریقین کو ایک میز پر لانا اور مذاکرات کرانا تھا اور پاکستان کو اس میں کامیابی ملی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امن جنگ سے نہیں ہوتا یہ ہمارا مؤقف رہا ہے، دنیا نے ہمارے مؤقف کی تائید کی ہے اور افغانستان کا امن ہماری بھی ضرورت ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بطور ایک پڑوسی اور خیرخواہ افغانستان کے ساتھ ہے اور افغانستان کے معاملے پر پاکستان نے اپنا کردار ادا کر دیا ہے تاہم افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام خود کریں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز قطر میں امریکا اور طالبان کے درمیان 17 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ طے پایا جس کے مطابق 18 ماہ کے اندر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی ایوان نمائندگان میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف رکھوں گا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن سے ہونا چاہیے
وزیر خارجہ کا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے حوالے سے کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت سودے بازی کرنے نہیں آئی، ہم نے پاکستان کے مفادات کا سودا نہ ماضی میں کیا نہ اب کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن سے ہونا چاہیے لیکن اپوزیشن کے رویے کے باعث اسمبلی کی کارروائی آگے نہیں بڑھ رہی۔
شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن اسمبلی میں اپنا موقف ضرور پیش کرے مگر ہلڑبازی نہ کرے۔