views

جو ممکنہ طور پر بطلیموس پنجم کے دور، یعنی دوسری صدی قبل مسیح سے تعلق رکھتا ہے۔
مصر کے محکمۂ آثارِ قدیمہ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر مصطفیٰ وزیری نے اتوار کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ یہ مجسمہ ممکنہ طور پر مصری بادشاہ بطلیموس پنجم کے دور سے تعلق رکھتا ہے اور اسے کوم امبو معبد کی ایک دیوار سے کھود کر نکالا گیا۔
محکمے کے ڈائریکٹر جنرل عبدالمنعیم نے بتایا کہ ریگی پتھر سے بنے اس مجسمے کے دریافت کے مقام کے آس پاس کی کھدائی جاری رہے گی تاکہ اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
انھوں نے کہا کہ اس سے قبل اسی جگہ سے بطلیموس پنجم کے زمانے کی دو مٹی کی تختیاں برآمد ہوئی تھیں جن پر ہیروغلافی رسم الخط میں تحریریں کندہ ہیں۔

ابوالہول ایک خاص قسم کا مجسمہ ہے جس کا سر انسان کا اور دھڑ شیر کا ہوتا ہے۔ مصری دیومالا کے مطابق ابوالہول کی حیثیت روحانی رہنما کی ہے اور اس کے مجسمے اکثر مقبروں کے باہر نصب کیے جاتے تھے۔
سب سے مشہور ابوالہول قاہرہ میں عظیم ہرم کے قریب واقع ہے۔
بطلیموس پنجم کا دور 204 قبل مسیح تا 181 قبل مسیح ہے۔ وہ صرف پانچ سال کی عمر میں تخت پر بیٹھے تھے اور مشہورِ زمانہ روزیٹا سٹون انھی کے دور میں تخلیق کیا گیا تھا جس نے آگے چل کر قدیم مصری رسم الخط پڑھنے میں مدد دی۔
Comments
0 comment